واشنگٹن کے سیاسی درجہ حرارت میں تیزی

امریکہ میں آئیندہ صدارتی انتخاب کے لئے ڈیموکریٹک پارٹی کے کلیدی اُمیدواراور سابق نائب امریکی صدر جو بائیڈن نے پہلی بار صدر ٹرمپ کے مواخذے کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ امریکی آئین میں سوراخ کر رہے ہیں اور امریکی جمہوریت کیلئے خطرے کی علامت ہیں، لہذا اُن کا مواخذہ ضروری ہے۔

اس سے قبل انہوں نے محض یہ کہنے پر اکتفا کیا تھا کہ وہ امریکی ایوان نمائندگان کی طرف سے صدر ٹرمپ کے مواخذے کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات کی حمایت کرتے ہیں۔

مواخذے کے ان مطالبات کے درمیان صدر ٹرمپ نائب صدر مائیک پینس کے ہمراہ مینی ایپولس میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کر رہے ہیں۔ یہ کانگریس کی خاتون مسلمان رکن الہان عمر کا انتخابی حلقہ ہے۔ مینی ایپولس پہنچنے سے قبل صدر ٹرمپ کی شہر کے میئر جیکب فرے سے ٹویٹر پر نوک جھونک ہوئی۔ میئر جیکب فرے نے صدر ٹرمپ کی ایک ٹویٹ کے جواب میں لکھا، ’’میں اپنے مؤقف پر قائم ہوں۔ مینی ایپولس کے ٹیکس دہندگان کو صدر ٹرمپ کے دورے کے اخراجات برداشت کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہئیے۔‘‘

جو بائیڈن نے بدھ کے روز نیو ہیمپشائر میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کو نازی دور کے وزیر جوزف گوئبلز سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی گوئبلز کی طرح جھوٹ اور دروغ گوئی کو فروغ دے رہے ہیں جس سے امریکہ کی جمہوری اقدار متاثر ہو رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے جو بائیدن کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے تناظر میں جو بائیڈن نے اُن کے خلاف اپنے بیانیے میں شدت پیدا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے کیونکہ انہیں خود پنے اندرونی حلقوں کی طرف سے اس سلسلے میں شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ حالیہ دنوں میں ہونے والے عوامی جائزوں سے اشارہ ملتا ہے کہ صدر ٹرمپ کے جو بائیڈن کے بارے میں مسلسل بیانات سے ڈیموکریٹک پارٹی کے اُمیدواروں میں اُن کی مقبولیت قدرے کم ہو گئی ہے اور وہ مقبولیت کے جائزوں میں سنیٹر ایلزبتھ وارن کے بعد دوسرے نمبر پر آ گئے ہیں۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے مبینہ طور پر یوکرین کے صدر سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کے ایک یوکرینی گیس کمپنی میں کام کرنے کے دوران جو بائیڈن پر بدعنوانی کے امکانات کے حوالے سے تحقیقات کریں۔ اس خفیہ گفتگو کی تفصیلات ایک وسل بلوئر کے ذریعے سامنے آئیں جس کے بعد امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کے امکانات کے حوالے سے تحقیقات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکہ کے نائب صدر رہتے ہوئے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے اور صدر ٹرمپ کے الزامات جھوٹے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے جو بائیڈن کے اس بیان کے فوراً بعد ایک ٹویٹ میں جوزف بائیڈن کو ایک مرتبہ پھر ’’خوابیدہ جو‘‘ کے الفاظ سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو بائیڈن اور اُن کے بیٹے نے امریکہ کے ٹیکس دہندگان کو نقصان پہنچاتے ہوئے کم سے کم دو ممالک کو لاکھوں کروڑوں ڈالر سے محروم کر دیا ہے اور اب وہ میرے مواخذے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے اور جو بائیڈن کے پاس اپنی ناکام صدارتی مہم کے باعث مجھ پر بے جا تنقید کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں