پاکستان بمقابلہ سری لنکا: شاید وہ قبولیت کی گھڑی تھی

یہ کیسی ٹیم ہے کہ جس کے اوپنرز کو پاورپلے کی رفتار سے قدم ملانا نہیں آتا، جس کے بولرز کو مڈل اوورز کے ٹھہراؤ کا اندازہ نہیں، اور یہ کیسی ٹیم ہے کہ جس کے کپتان کو گگلی کی سمجھ نہیں آتی۔

سری لنکن کرکٹ بورڈ نے عجیب گگلی پھینکی کہ جب دس ریگولر کھلاڑی پاکستان آنے پہ آمادہ نہیں تھے تو ان کی جگہ اپنے تئیں ایک ڈنگ ٹپاؤ سلیکشن بھیجی مگر اس عارضی ٹیم نے نمبر ون ٹیم کو اس کے گھر میں تگنی کا ناچ نچا دیا۔

جب ہر طرف یہ غوغا برپا تھا کہ سری لنکا نے یہ کیسی ‘عجیب الخلقت’ ٹیم بھیج دی کہ جس کے نام ہی گمنام سے ہیں، تب یہ اہم بات سب بھول گئے کہ جب ایسی نئی ٹیمیں وقت کی نزاکت سے فائدہ اٹھانا سیکھ لیں تو ان سے زیادہ خطرناک کوئی ٹیم نہیں ہو سکتی۔

یہ ‘سیکنڈ چوائس’ ٹیمیں ہمیشہ کسی نہ کسی مجبوری کے تحت وجود میں آتی ہیں جب سینئر پلئیرز بوجوہ کسی دورے سے انکار کر دیتے ہیں یا کیری پیکر جیسے کسی شغل میں مگن ہو جاتے ہیں۔

لیکن ایسے مواقع پہ عموماً ان پلئیرز کی خوش بختی شروع ہو جاتی ہے جو سالہا سال سے سلیکٹرز کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہوتے ہیں مگر بنی بنائی ٹیم میں جگہ نہیں بنا پاتے۔ جب ایسے حالات میں انہیں موقع مل ہی جاتا ہے تو پھر وہ ضرور کچھ ایسا کر دکھاتے ہیں کہ مستقبل کے ساتھ ساتھ طبق بھی روشن ہو جائیں۔

تھنک ٹینک کے لیے سب سے دقیق مرحلہ ایسی ٹیم کے خلاف سٹریٹیجی تیار کرنا ہوتا ہے کیونکہ اپوزیشن کے کسی بھی پلئیر کی کوئی خوبی خامی، کچھ معلوم نہیں ہوتا۔ اوشادا فرنانڈو کس زون میں تگڑے اور کہاں کمزور ہیں، ہاسا رنگا کو کیسے ہینڈل کرنا ہے اور ڈیتھ اوورز میں شناکا سے کیسے بچنا ہے!

چونکہ ان پلئیرز کے خلاف پہلے کبھی کسی کو کھیلنے کا موقع ہی نہیں ملا ہوتا اور انٹرنیشنل لیول پہ ہوتے ہوئے وہ اتنے نئے ہیں کہ ان کا کوئی مفصل ڈیٹا بھی موجود نہیں ہوتا۔ تو اہسے میں پھر کاہے کی پلاننگ کی جائے اور کیونکر؟

SRILANKA TEAM

پاکستان ان تینوں میچز میں اپنے تئیں مثبت اپروچ کے ساتھ اترا۔ یہ ٹیم ہارنا نہیں چاہتی تھی اور اس سری لنکن ٹیم جیسے عارضی گروپ سے تو بالکل بھی نہیں۔ مگر نئے کوچنگ سیٹ اپ، نئے سکواڈ اور بالکل ہی نئی اپوزیشن کے خلاف کسی طرح کی کوئی سٹریٹیجی بننا ممکن نہ ہو پایا۔ سرفراز ویسے ہی ایک سیٹ پیٹرن پہ چلنے والے کپتان ہیں، ایسے کپتان کا ایک سٹار پلئیر فیل ہو جائے تو وہ پے درپے ہارنے لگتا ہے۔

تین چار پلئیرز کو چھوڑ کر باقی سبھی اس خوف کا شکار نظر آئے کہ نجانے اگلے میچ میں وہ ٹیم کا حصہ ہوں گے بھی کہ نہیں۔ ایسی عدم تحفظ کی صورتِ حال میں دفاعی گیم پلان ہی بہترین ہتھیار ہوتا ہے کہ کم از کم اپنے نمبرز تو محفوظ رکھے جائیں۔

پہلے دو میچز میں ٹیم سلیکشن ہی یقین سے عاری نظر آئی۔ کل کے میچ میں ٹیم سلیکشن تو بہت بہتر تھی لیکن خود اعتمادی بالکل ہوا ہو چکی تھی۔ عثمان شنواری کا پہلا اوور ہی اس قدر بھیانک تھا کہ رہا سہا اعتماد بھی جاتا رہا۔

کرکٹ

جس ٹیم کا ہر پلئیر عدم تحفظ کا شکار ہو، کپتان کی جگہ نہ بنتی ہو اور فیلڈنگ کسی ایسوسی ایٹ لیول ٹیم کی سی ہو، وہ کسی بھی ٹیم سے ہار سکتی ہے۔

تیسرے ون ڈے کے بعد سرفراز نے کہا تھا کہ اگر ہماری فیلڈنگ کا یہی حال رہا تو ہم کوئی ٹی ٹونٹی نہیں جیت سکیں گے۔

شاید وہ قبولیت کی گھڑی تھی کہ تب سے فیلڈنگ کا بھی وہی حال ہے اور پاکستان اپنی تاریخ میں پہلی بار تین میچز کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں کلین سویپ بھی ہو گیا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں