پولیس اور اینٹی انکروچمنٹ ٹیم کا دھاوا ٗ مہران ٹائون میدان جنگ بن گیا ٗ درجنوں مکانات مسمار

اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ سعید احمد لہولہان ٗ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں لاٹھی ٗ ڈنڈوں اور پتھرائو کا آزادانہ استعمال
پولیس نے اچانک ہمارے گھروں میں گھس کر خواتین ٗ بچوں اور بزرگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ٗ انتظامیہ کی جانب سے کوئی نوٹس نہیں ملا ٗ مظاہرین
کراچی (کرائم رپورٹر) رات گئے سے آج صبح تک پولیس اور اینٹی انکروچمنٹ ٹیم کا مہران ٹائون پر دھاوا، درجنوں مکانات مسمار کر دیے گئے، علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد کا احتجاج، ہنگامہ آرائی پولیس کا مظاہرین پر تشدد، ایس ایچ او عوامی کالونی زخمی، مقدمہ درج، مظاہرین احتجاج کے لیے کورنگی انڈسٹریل ایریا پولیس کی بھاری نفری نے اینٹی انکروچمنٹ ٹیم کے ہمراہ مہران ٹائون سیکٹر 6/G میں غیر قانونی تعمیرات و تجاوزات کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے ہیوی مشینری کے ذریعے مکانات مسمار کرنا شروع کر دیے جس پر علاقہ عوام کی بڑی تعداد گھروں سے باہر نکل آئی مشتعل علاقہ مکینوں کی جانب سے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے پولیس، اینٹی انکروچمنٹ ٹیم اور صوبائی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی جبکہ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے دوران لاٹھی، ڈنڈوں اور پتھرائو کا آزادانہ استعمال ہوا جس کے نتیجے میں پتھر لگنے سے ایس ایچ او عوامی کالونی ہمایوں خان، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ سعید احمد ولد دلبر خان لہولہان ہوگئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد دی گئی، پولیس نے ہوائی فائرنگ کرکے مظاہرین کو منتشر کر دیا جبکہ مظاہرین کا کہنا تھا کہ پولیس اور اینٹی انکروچمنٹ ٹیم سمیت انتظامیہ کی جانب سے کسی قسم کا کوئی نوٹس نہیں دیا گیا بلکہ اچانک ہمارے گھروں پر دھاوا بول کر گھروں میں پولیس نے گھس کر خواتین، بچوں اور بزرگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ہمارے بچوں کو پولیس اٹھا کر لے گئی۔ دوسری جانب پولیس نے اینٹی انکروچمنٹ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سعید احمد کی مدعیت میں 50 سے 60 نامعلوم افراد کے خلاف دہشت گردی دفعات کے تحت مقدمہ نمبر 1243/19 بجرم دفعہ 7ATA، 427PPC، 186، 324، 353، 9، 14، 14S، 147 کے تحت درج کر لیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں