ترکی اور شامی کردوں کی ہولناک پنجہ آزمائی پر امریکہ کا اظہار تشویش

شمال مشرقی شام میں اپنے دو کلیدی اتحادیوں، ترکی اور شامی کردوں کے درمیان جاری ہولناک لڑائی کے معاملے پر امریکہ الجھاؤ کا شکار ہے، جب کہ اس بات کا امکان نہیں کہ دونوں میں سےکوئی ایک فریق لڑائی بند کرنے کا خواہاں ہوگا۔

صورت حال تب مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے جب امریکی فوج اور انٹیلی جنس اہلکار بتاتے ہیں کہ دولت اسلامیہ کا دہشت گرد گروپ، جسے داعش کا بھی نام دیا جاتا ہے، ٹانگ اڑا کر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

امریکی وزیر دفاع، مارک ایسپر بھی اُن اعلیٰ امریکی حکام میں شامل ہیں جنھوں نے صورت حال کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔ جمعے کے روز پینٹاگان میں فوری اخباری کانفرنس کرتے ہوئے، ایسپر نے ترکی کی فوجی مداخلت کی مذمت کی۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں اور شمالی شام میں ترکی کا یکطرفہ فوجی مداخلت کا فیصلہ انتہائی مایوس کُن ہے‘‘۔

امریکی وزیر دفاع نے ’’اس یکطرفہ کارروائی‘‘ کو ’’بغیر سوچا سمجھا قدم‘‘ قرار دیا۔

بقول ان کے، ’’اس کارروائی کے نتیجے میں ہمارے ایس ڈی ایف (سیئرین ڈیموکریٹک فورسز) کے ساتھیوں کو شدید جانی نقصان کا خطرہ ہے۔ کارروائی کی وجہ سے داعش کے قیدخانوں کی سیکورٹی کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں ؛ اور اس اقدام کے نتیجےمیں خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہوگا‘‘۔

امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ترک مداخلت، جسے ترکی نے ’آپریشن پیس اسپرنگ‘ کا نام دیا ہے، میں اب تک تل ابیض اور راس العین کے شامی شہر متاثر ہوئے ہیں، اور ترک اور شامی سرحد سے 125 کلومیٹر کے خطے پر چڑھائی کی گئی ہے۔
امریکی جوائنٹ چیفز آف اسٹاف، جنرل مارک مائلی نے جمعے کو اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’بَری افواج کی پیش قدمی کے لحاظ سے یہ نسبتاً محدود نوعیت کی کارروائی ہے‘‘۔ انھوں نے اس جانب توجہ دلائی کہ ترک فوج کا انحصار متعدد کمانڈو یونٹس اور ترکی کے حامی ’فری سیئرین آرمی‘ سے منسلک جنگجوؤں پر ہے۔
کرد ایس ڈی ایف کے اہلکاروں نے بتایا ہے کہ توپ خانہ، لڑاکا طیاروں اور مسلح ڈرونز کی مدد سے ترکی ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس بات کے کوئی آثار نہیں کہ ترک افواج فوری طور پر کسی نرمی کا مظاہرہ کریں گی، یہی بات پینٹاگان نے بھی بتائی ہے۔
ایسپر نے کہا کہ ’’مجھے نہیں لگتا کہ ایسے کوئی آثار ہیں کہ لڑائی تھمے گی‘‘۔ انھوں نے کہا کہ ان کی اپنے ترک ہم منصب سے بات ہوئی ہے، جس میں انھوں نے ’’لڑائی کے ممکنہ نقصانات‘‘ کی نشاندہی کی ہے۔
ترک حکام کا کہنا ہے کہ وہ سرحد کے ساتھ 30 کلومیٹر طویل ’محفوظ زون‘ قائم کرنا چاہتے ہیں، تاکہ ترکی کو کرد افواج سے تحفظ فراہم ہو سکے، جس کے لیے ترکی کا کہنا ہے کہ کرد فورسز کے کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے ساتھ طویل مراسم ہیں۔
ترکی اور امریکہ دونوں پی کے کے کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دیتے ہیں؛ جب کہ مغربی حکام کا کہنا ہے کہ داعش کے خلاف لڑائی کے حوالے سے شام میں کرد میلشیائیں ایک مؤثر اور پختہ پارٹنر ہیں۔
ایسپر نے کہا کہ ’’ہم اپنے کرد ساتھیوں کی افواج کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑیں گے‘‘۔
جمعے کے روز امریکہ نے اعلان کیا کہ کارروائی بند کرنے کے لیے ترکی پر دباؤ ڈالنے کے لیے ’’انتہائی سخت‘‘ نوعیت کی نئی تعزیرات کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے۔
امریکی وزیر مالیات، اسٹیون منوشن نے متنبہ کیا ہے کہ ’’اگر ضرورت پڑی تو ہم ترکی کی معیشت کو ٹھپ کر دیں گے‘‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں