برطانیہ نے متحدہ قائد کو ’’سزائے موت‘‘ نہ دینے کی ضمانت مانگ لی

الطاف حسین کی حوالگی کی درخواست پر برطانوی حکومت نے مشروط آمادگی ظاہر کردی ہے
پاکستان نے بانی ایم کیو ایم کی حوالگی کیلئے برطانیہ کو ایک چارج شیٹ ارسال کی تھی
برطانیہ کو خدشہ ہے کہ ملزم کو پاکستان کے حوالے کردیا گیا تو اسے سزائے موت ہوسکتی ہے
اسلام آباد (آئی این پی) وفاقی حکومت بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کی برطانیہ سے حوالگی کے لیے برطانوی حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کا تاحال جواب نہ دے سکی، الطاف حسین کی حوالگی کی درخواست پر برطانیہ نے ملزم کو سزائے موت نہ دینے کی تحریری ضمانت مانگتے ہوئے مشروط آمادگی ظاہر کی تھی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان میں درج مقدمات اور نفرت انگیز تقریر کے کیس میں کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے احکامات کی روشنی میں پاکستان نے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کی حوالگی کے لیے برطانیہ کو ایک چارج شیٹ ارسال کی تھی جس کے جواب میں برطانوی محکمہ داخلہ نے پاکستان کی وزارت داخلہ کو ملزم کی حوالگی پر مشروط آمادگی ظاہر کی تھی اور ساتھ ہی کہا تھا کہ کیونکہ پاکستان میں سزائے موت کا قانون ہے اس لیے برطانیہ کو خدشہ ہے کہ اگر ملزم کو پاکستان کے حوالے کیا گیا تو اسے سزائے موت ہو سکتی ہے۔ برطانوی محکمہ داخلہ نے اپنے ایک خط میں وفاقی وزارت داخلہ سے مطالبہ کیا تھا کہ اگر ملزم کو پاکستان کے حوالے کیا جاتا ہے تو اس کو سزائے موت نہ دینے کے حوالے سے تحریری ضمانت دی جائے۔ ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے برطانوی شرائط پر قانونی رائے طلب کرتے ہوئے وزارت قانون، ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کو خطوط لکھ رکھے ہیں تاہم چار ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال برطانیہ کو کوئی جواب نہ دیا جاسکا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں