زیر زمین روپوش لسانی اور کالعدم تنظیموں کے ٹارگٹ کلرز پھر سرگرم

بریگیڈ کے علاقے میں فائرنگ سے زخمی اہلکار غوث عالم لسانی اور کالعدم جماعتوں، لیاری گینگ وار کے کارندوں کے کیس کی تفتیش کررہا تھا
حالیہ ٹارگٹ کلنگ میں لسانی جماعتوں، کالعدم جماعتوں کے ارکان شامل ہوسکتے ہیں، تحقیقاتی ادارے نے خدشات کا سے آگاہ کردیا

کراچی(اسٹاف رپورٹر ) تحقیقاتی اداروں نے شہر میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلر کی وارادتوں میں لسانی جماعتوں کے سلیپر سیل ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کراچی میں امن وامان کے قیام کے بعد زیرزمین چھپے لسانی جماعتوںکے دہشت گرد ایک بار پھر سرگرم ہوگئے اوردہشت گردی کے واقعات زور پکڑنے لگے ہیں۔

ذرائع کے مطابق شہر میں سلیپر سیل ایک بار پھر متحرک ہوگئے ہیں۔کراچی کے علاقے خداداد چورنگی پر فائرنگ سے سب انسپکٹر غوث عالم زخمی ہوئے۔پولیس حکام کے مطابق زخمی اہلکار کو ٹارگٹ کرکے قتل کرنے کی کو شش کی گئی تھی،زخمی اہلکار غوث عالم مختلف لسانی اورکالعدم جماعتوں سمیت لیاری گینگ وار کے کارندوں کے کیسسز کی تفتیش کررہا تھا۔

دوسری جانب کچھ دن قبل لانڈھی میں فائرنگ سے حساس ادارے کا اہلکار شہید کیا گیا بلدیہ میں رینجرز اہلکار میر افضل جان کی بازی ہار گیا۔عزیز آباد میں پی ٹی آئی کے کارکن آصف کو قتل کیا گیا تھا۔نارتھ کراچی میں مقابلہ کے دوران پولیس اہلکار شاہ میر جان سے گیا۔

گلشن اقبال میں نامعلوم دہشت گردوں کی فائرنگ سے عسکری حیدر نامی ڈاکٹر کو بھی قتل کیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق شہر میں حالیہ ٹارگٹ کلنگ میں مختلف لسانی جماعتوں کے علاوہ کالعدم جماعت کے ارکان شامل ہوسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں