44 بچوں کی ماں کی دکھ بھری کہانی۔۔۔!!

یوگینڈا میں ایک ماں پر 44 بچے پیدا کرنے کے بعد  ڈاکٹروں نے مزید بچے پیدا کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ کمپالا کے ایک قصبے کی رہائشی مریم نباتنزی نامی خاتون کے 44 بچے ہوچکے ہیں لیکن وہ چاہتی ہیں کہ ایک بچہ اور پیدا کرلیں تاکہ اپنے والدکے 45 بچوں کا ریکارڈ برابر کرلیں ۔

مریم کی عمر 40 برس  ہے اور ان کی شادی 12 سال کی عمر میں کردی گئی تھی، 26 سالہ ازدواجی زندگی میں 44 بچوں کا حیرت انگیز ریکارڈ بنانے میں ان کو قدرت  کی جانب سے عطا کردہ خصوصی صلاحیتوں  کا بنیادی کردار ہے اسی  لیئے وہ دنیا  میں سب سے زیادہ زرخیز ماں کہلانے کا ٹائٹل بھی رکھتی ہیں۔

مریم کے 44 بچوں میں سے 4 مرتبہ  جڑواں بچے، 5 مرتبہ 3 جڑواں بچے اور پانچ بار چار جڑواں بچے پیدا ہوئے تھے۔ مریم نے شادی کے ایک سال بعد 13 برس کی عمر میں پہلے بچے کوجنم دیا تھاڈاکٹرز نے مریم پر مزید بچے پیدا کرنے پر پابندی عائد کردی ہے، یہ پابندی مریم کی اس خواہش کے بعد لگائی گئی جس میں مریم نے کہا تھا وہ ایک اور بچہ پیدا کرنا چاہتی ہیں کیوں کہ ان کے والد کے بھی 45 بچے تھے۔

محکمہ صحت نے بھی ڈاکٹرز کے مشورے پر مریم کی صحت کو دیکھتے ہوئے مزید بچے پیدا کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ ماہر امراض نسواں کا کہنا ہے کہ مریم کو کینسر بھی ہوسکتا ہے جب کہ ماہر نفسیات کی رائے میں اتنے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے سرمایہ درکار ہوتا ہے جو نہ ہونے کی صورت میں گھمبیر سماجی اور نفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں۔

مریم  کے 44 بچوں میں سے 6 بچوں کی دوران زچگی موت ہوچکی ہے 1993 میں جب ان کی شادی 40 برس کے ایک شخص سے ہوئی تو مریم کی عمر صرف 12 برس تھی پھر  13 سال کی عمر میں جب وہ ماں بنی تھیں تو اسی وقت ڈاکٹر نے کہہ دیا تھا کہ دسرا بچہ آپ کی زندگی کیلئے خطرہ پیدا کرسکتا ہے لیکن اس کے بعد تو بچوں کی لائن لگ گئی اور وہ اب بھی مکمل صحت مند ہیں۔

مریم کی دکھ بھری داستان ہے وہ کہتی ہیں کہ  جب وہ 3 برس کی تھیں تو ان کی ماں کا انتقال ہوگیا تھا کچھ عرصہ بعد والد نے دوسری شادی کرلی تو میری سوتیلی ماں نے میرے 5 بھائی بہنوں کو زہر دے کر مار ڈالا میں بڑی مشکل سے  فرار ہوئی اس وقت میری عمر 6 برس تھی ۔ پھر مجھے 12 برس کی عمر میں شادی کیلئے فروخت کردیا گیا،مریم کہتی ہیں کہ زیادہ بچوں کی خواہش صرف اس لیئے کہ میرا خاندا ن جو ختم ہوچکا ہے وہ زیادہ سے زیادہ پھیلے اور یہ بچے بڑَ ہوکر اتناکما سکیں کہ میری زندگی سکون سے گزر سکے۔ مریم کے 38 بچوں میں سے 10 لڑکیاں  اور 28 لڑکے ہیں۔

مریم کے شوہر پرانی چیزیں فروخت کرتے ہیں جبکہ ان کے بڑے بیٹے کی عمر 23 برس ہے 38 میں سے 20 بچے چھوٹے موٹے کام بھی کرتے ہیں لیکن گھر میں جتنے پیسے آتے ہیں وہ کھانے پینے اسکول فیسوں اور کپڑوں پر خرچ ہوجاتے ہیں، اتنی مشکلات کے باوجود مریم کے دل میں ایک بچے کی خواہش بدستور موجود ہے جس پر پابندی عائد ہونے سے مریم کو دکھ ہے کہ وہ اپنے والد کا ریکارڈ توڑ نہ سکیں تو کم از کم برابر ہی کرلیتیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں