‘دورہ آسٹریلیا نوجوانوں کیلئے ٹیم میں مستقل جگہ بنانے کا نادر موقع ہے’

قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے دورہ آسٹریلیا کو نوجوان کھلاڑیوں کے لیے نادر موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دورے میں عمدہ کارکردگی کی بدولت وہ ٹیم میں مستقل جگہ بنا سکتے ہیں۔

سڈنی میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مصباح نے دورہ آسٹریلیا کو سب سے مشکل قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کے مقابلے میں آسٹریلیا میں کھیلنے کا تجربہ سب سے مختلف ہوتا ہے کیونکہ بیٹنگ اور باؤلنگ میں ہمیں وکٹوں میں موجود باؤنس کے حوالے سے خود کو ایڈجسٹ کرنا ہوتا ہے۔

یہ مصباح کی قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے محض دوسری سیریز ہے جہاں اس سے قبل ان کی زیر نگرانی پہلی سیریز میں پاکستان ون ڈے سیریز میں کامیاب رہا لیکن ٹی20 میں ناتجربہ کار سری لنکن ٹیم کے ہاتھوں اسے 0-3 کی کلین سوئپ شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔

اس سیریز کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) نے سرفراز کو ٹی20 اور ٹیسٹ میچوں میں قیادت سے برطرف کرتے ہوئے بابر اعظم اور اظہر علی کو بالترتیب ٹی20 اور ٹیسٹ ٹیم کی ذمے داری سونپ دی تھی۔

مصباح نے دورہ آسٹریلیا کو دونوں کپتانوں کے لیے بھی چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اظہر علی تو پہلے بھی آسٹریلیا میں قیادت کر چکے ہیں اس لیے انہیں تجربہ ہے اور وہ کافی کرکٹ کھیل چکے ہیں لیکن بابر نئے ہیں اور انہیں میری ہدایات کی ضرورت پڑے گی جبکہ کھلاڑیوں کو بھی کپتان کی بھرپور مدد کرنا ہو گی۔

26سالہ لیگ اسپنر عثمان قادر کی ٹی20 اسکواڈ میں حیران کن شمولیت کے حوالے سے مصباح نے کہا کہ گزشتہ کچھ سالوں سے شاداب ہمارا اولین انتخاب تھے لیکن وہ کچھ عرصے سے فارم میں نہیں ہیں اور ہمارے پاس لیگ اسپنرز میں دستیاب آپشنز بہت کم ہیں، عثمان قادر نے اس سال ڈومیسٹک ٹی20 ٹورنامنٹ کھیلا اور اچھی کارکردگی دکھائی جبکہ وہ آسٹریلیا میں کھیلنے کا تجربہ بھی رکھتے ہیں جس ہمیں فائدہ ہو گا۔

پاکستان کا ٹیسٹ اسکواڈ خصوصاً ناتجربہ کار فاسٹ باؤلرز پر مشتمل ہے جس میں 19سالہ شاہین شاہ آفریدی کے ساتھ ساتھ نسیم شاہ اور موسیٰ خان بھی شامل ہیں جہاں ان دونوں نے انٹرنیشنل کرکٹ میں اب تک پاکستان کی نمائندگی نہیں کی۔

مصباح نے نسیم شاہ کی خصوصی طور پر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں چار روزہ میچوں میں اچھی باؤلنگ کر رہے ہیں اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ہر اسپیل میں ان کی رفتار برقرار رہتی ہے جبکہ آسٹریلیا کی کنڈیشنز سے بھی انہیں معاونت ملے گی لہٰذا ہم سب ان کی ٹیم میں موجودگی پر بہت خوش ہیں۔

نسیم شاہ اور موسیٰ خان نے اب تک انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیلی اور ہیڈ کوچ کا ماننا ہے کہ اسی وجہ سے خصوصاً نسیم آسٹریلیا میں سرپرائز پیکج ثابت ہو سکتے ہیں تاہم انہوں نے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ ان کی ناتجربہ کاری پاکستان کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

پاکستانی ٹیم آسٹریلیا کے خلاف تین نومبر سے شروع ہونے والے ٹی20 سیریز کے ذریعے اپنی مہم کا آغاز کرے گی جس کے بعد دونوں ٹیمیں ٹیسٹ سیریز میں نبردآزما ہوں گی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں