پاکستان میں 22 فی صد اموات کا سبب فضائی آلودگی ہے: رپورٹ

ایک غیر ملکی طبی جریدے لانسیٹ کے مطابق پاکستان میں 22 فی صد اموات کا سبب فضائی آلودگی اور اس سے جڑے امراض ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ آلودہ ہوا کے نتیجے میں دمہ، پھیپھڑوں، دل کے امراض اور مختلف قسم کے انفیکشنز پھیل رہے ہیں۔ یہ ایسے مسائل ہیں جن سے انسانی زندگی کی طوالت کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہے۔

عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب لوگوں کو ہوائی آلودگی سے بچانے میں ناکام رہی ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ فضائی آلودگی انسانی زندگی اور صحت دونوں کے لیے خطرناک ہے۔

لاہور میں امریکی قونصل خانے کے نصب کردہ ایئر کوالٹی مانیٹرز اور پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹیو سمیت دیگر آزاد ذرائع کی جانب سے جمع کردہ معلومات کے مطابق صوبہ پنجاب میں سال کے زیادہ تر مہینوں میں ہوا کا معیار صحت کے لیے خطرہ بنا رہتا ہے جب کہ اکتوبر سے جنوری تک جاری رہنے والے اسموگ سیزن کے دوران یہ معیار انتہائی مضر صحت ہو جاتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جنوبی ایشیا میں تعینات ایک رضاکار رمیل محیدین کا کہنا ہے کہ حکومت کو صحت عامہ سے جڑے سنگین مسائل سے نمٹنے کے لیے بہت زیادہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ان مسائل نے انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ایندھن کا ناقص معیار، زہریلے دھویں کا اخراج اور فصلوں کی باقیات جلانے سے ہوا کا معیار خراب ہوتا ہے جو اسموگ کا سبب بنتا ہے۔

تعمراتی کاموں اور کھیتوں میں مزدوری کرنے والے افراد کی زندگیوں کو فضائی آلودگی سے زیادہ خطرہ رہتا ہے کیوں کہ ان کے کام کی نوعیت انہیں دن بھر مضر صحت ہوا میں رہنے پر مجبور کرتی ہے۔

عدالت کے مقرر کردہ اسموگ کمیشن نے مئی 2018 میں متعدد سفارشات کیں تھیں جن میں فوری طور پر پنجاب کلین ایئر ایکشن پلان پر عمل درآمد اور ضلعی سطح پر اسموگ رسپانس ڈیسک قائم کرنا اور اینٹوں کے بھٹوں سے نکلنے والے آلودہ دھویں کے اخراج کو کم کرنا شامل تھا۔ تاہم، ان سفارشات پر عمل درآمد ایک حد سے آگے نہ بڑھ سکا۔

حقیقت یہ ہے کہ محکمہ ماحولیات کے تحفظ سے متعلق اعداد و شمار عوام کے لیے دستیاب نہیں جب کہ ایندھن کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے بھی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی۔

عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے صنعتی، زرعی اور نقل و حمل کے طریقوں میں بنیادی تبدیلی ضروری ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ لوگوں کے انسانی حقوق کے مطابق ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایسی صورت حال میں جب کہ لوگ فضائی آلودگی سے بری طرح گھرے ہوئے ہوں حکومت وقت ضائع کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں