پاکستان سے باہرمنتقل ہونے والاپیسہ غیرقانونی نہیں، شبر زیدی

2018سے پہلے ڈالر خرید کر بیرون ملک بھیجا جا سکتا تھا‘ اس پیسے کو قانونی کہا جائے گا‘چیئرمین ایف بی آر
800ارب کی ٹیکس چوری میں صرف ایک ارب کی وصولی کی گئی‘ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین شبر زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان سے باہرمنتقل ہونے والا پیسا غیرقانونی نہیں، انہوں نے کہا کہ 2018سے پہلے ڈالر خرید کر بیرون ملک بھیجا جا سکتا تھا، لہذا اس پیسے کو غیرقانونی طریقے سے بھیجا نہیں کہا جا سکتا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین اسد عمر کی زیر صدارت کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ چیئرمین ایف بی آر نے اجلاس کو بتایا کہ 2018سے پہلے جس شخص نے بھی ڈالر خرید کر باہر بھیجا۔ اس پیسے کو غیرقانونی نہیں قانونی کہا جائے گا۔ اسی طرح بتایا گیا ہے کہ یکم جنوری سے ایف بی آر کا نام تبدیل کرکے پاکستان ریونیو اتھارٹی رکھ دیا جائے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ایف بی آر نے بیرون ملک تین سوپچیس بڑے بینک اکاونٹس کیخلاف کارروائی کیلئے منتخب کیا تاہم ان میں سے ایک سونوے افراد نے ٹیکس ایمینسٹی اسکیمیوں سے فائدہ اٹھا لیا۔جس میں بانوے ارب روپے کا کالا دھن سفید کرلیا گیا۔ ایف بی ار نے ایک سوپندرہ کیس پرنوٹس جاری کیے انیس افراد کا پتہ درست نہیں تھا کل چار ارب روپے کا ٹیکس نوٹس دیا گیا جبکہ ایک ارب روپے ٹیکس میں موصول ہوئے زیادہ طور کیس میں اپیلیں دائر کردی گئی۔ اسد عمر نے کہا کہ آٹھ سوارب روپے کی ٹیکس چوری میں صرف ایک ارب روپے کی وصولی کی گئی۔کمیٹی نے ایف بی ار کی کارکردگی پرعدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے او ای سی ڈی کے اس سال موصول ہونے والے ڈیٹا پرزیادہ بہترکاروائی کی ہدایت کی۔ کمیٹی کوبتایا گیا کہ ایف بی آرکو رواں سال تیس ستمبر کوپنتالیس ممالک سے پاکستانیوں کی جائیدادوں کا ڈیٹا موصول ہوا ہے تاہم ابھی سسٹم کی مشکلات کے باعث ڈیٹا کا معائنہ نہیں کیا جا سکا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں