پاک افغان تعلقات میں کشیدگی سے ویزے کا حصول مشکل ہو گیا

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیاسی اور سفارتی تعلقات دن بدن کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت اور آمدورفت پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں بلکہ اس کے اثرات افغانستان کے ان مریضوں پر بھی پڑ رہے ہیں جو افغانستان سے علاج کروانے پاکستانی شہر پشاور آتے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کی وجہ سے پشاور میں قائم افغان قونصلیٹ جنرل کی بندش کے باعث پاکستان سے محنت مزدوری اور تجارت کے لئے افغانستان جانے والے لوگوں کی تعداد میں بھی کافی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
دو ہزار چودہ پندرہ میں ویزہ اور پاسپورٹ لازمی قرار دیے جانے سے قبل روزانہ پاکستان آنے والے افغان شہریوں کی تعداد چار سے پانچ ہزار ہوا کرتی تھی۔ جبکہ نوے کی دھائی کے بعد اور رواں صدی کے ابتدائی پانچ سالوں تک روزانہ دس سے پندرہ ہزار تک لوگ طورخم بارڈر کے ذریعے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سفر کرتے تھے۔

/**/
/**/
فائل فوٹو

پاسپورٹ اور ویزہ کی پابندیوں کے نفاذ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان طور خم کے راستے سفر کرنے والوں کی تعداد اب کم ہو کر 2 ہزار کے لگ بھگ رہ گئی ہے جبکہ کابل میں پاکستانی سفارتحانے کے ویزہ سیکشن اور پشاور میں افغانستان کے قونصلیٹ جنرل کی بندش کے باعث اب سفر کرنے والوں کی تعداد میں مزید کمی آنے کا خدشہ ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی قریب میں کابل میں پاکستانی سفارتحانے کے ذریعے روزانہ 3 ہزار افغان باشندوں کو ویزے فراہم کیے جاتے تھے۔ مگر اب یہ تعداد ایک ہزار سے بارہ سو کے درمیان ہے۔

اسی طرح جلال آباد میں قائم پاکستانی کونسل خانے سے 12 سو سے 15 سو افغان باشندوں کو ویزے جاری کیے جاتے ہیں۔

پشاور کے ایک نجی ہسپتال میں علاج کے لیے افغان شہر جلال آباد سے آنے والے اجمل خان کا کہنا ہے کہ ماضی کے نسبت پاکستان کا ویزہ بہت مشکل سے ملا ہے جس کی اصل وجہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری کشیدگی ہے۔

اجمل خان کا کہنا ہے کہ افغان عوام کی خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ماضی کے طرح خوشگوار تعلقات بحال ہوں۔

افغان شہر کابل شہر سے تعلق رکھنے والے فواد محمد نے بھی پاکستان آنے کے لیے ویزہ کے حصول میں مشکلات کی تصدیق کی اور کہا کہ زیادہ تر لوگ چاہتے ہیں کہ وہ علاج اور دیگر معاشی مقاصد کیلئے پاکستان آ سکیں۔ مگر حال ہی میں دونوں ممالک کے درمیان خراب ہونے والے تعلقات کے باعث وہ ایسا نہیں کر سکتے۔

پشاور میں تعینات افغانستان کے قونصل جنرل محمد ہاشم خان نیازی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ افغانستان سے پاکستان آنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

ہاشم خان کا کہنا ہے کہ پشاور میں قائم افغان قونصلیٹ کی بندش سے قبل چار سو سے بارہ سو ویزے ان پاکستانی باشندوں کو جاری کیے جاتے تھے جو افغانستان میں معاشی سرگرمیوں اور سماجی تقریبات میں شرکت کے لیے جاتے تھے جبکہ اسلام آباد میں روزانہ سو سے ڈیڈھ سو ویزے جاری کیے جاتے تھے۔

ہاشم خان کا مزید کہنا ہے کہ پشاور میں قائم افغان قونصلیٹ کی بندش کی وجہ سے اسلام آباد میں ویزے کے حصول کیلئے آنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل کابل میں پاکستانی انٹیلجنس اداروں کے اہلکاروں کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں پاکستانی سفارتحانے کے ویزہ سیکشن کو بند کر دیا گیا تھا اور اس سلسلے میں اسلام آباد میں افغان سفیر لطف االلہ مشعال کو وزارت خارجہ مدعو کر کے انہیں ایک احتجاجی مراسلہ بھی دیا گیا تھا۔

افغان سفیر لطف اللہ مشعال نے الزام لگایا ہے کہ وزارت خارجہ میں ہونے والی ملاقات میں پاکستانی انٹلیجنس اہلکار بھی موجود تھے جنہوں نے انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کی تھی۔

پاکستان نے افغان حکومت سے کابل میں موجود پاکستانی سفارتکاروں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ تجارت میں اہم کردار ادا کرنے والے ٹرانسپورٹرز کی تنظیم کے ایک عہدیدار شاکر آفریدی نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک اور عوام کیلئے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان کے طرف سے ٹرانسپورٹرز اور تاجروں کیلئے رکاوٹیں کھڑی کی جاتی تھیں۔ مگر وزیر اعظم عمران خان کے طورخم بارڈر کو دن رات کھولنے کے اعلان کے بعد اب افغان حکام مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
شاکر آفریدی نے دونوں ممالک کے حکام سے تعلقات کو بہتر اور مستحکم بنانے کی درخواست کی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں