برطانوی پارلیمنٹ میں بھارت کشمیر پر حمایت حاصل کرنے میں ناکام

کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے حامی ارکان پارلیمنٹ اور کونسلرز کی اکثریت
پاکستان کے حامی لیبر رہنما مستعفی ہو گئے

برطانوی پارلیمنٹ میں پاکستان کے سب سے بڑے حامی ٹام واٹسن نے لیبر پارٹی کے نائب رہنما کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
واٹسن نے یہ اعلان بھی کیاکہ وہ مغربی بروم وچ ایسٹ سے پارلیمنٹ کے امیدوار بھی نہیں ہوں گے ، جو مغربی مڈلینڈز میں لیبر پارٹی کی محفوظ نشست ہے جس کی انہوں نے 2001 سے نمائندگی کی ہے۔
بہت سے لیبرارکان پارلیمنٹ کی طرح انہوں کشمیر پر بھارت کے خلاف پاکستان کی ڈٹ کر حمایت کی۔لیکن ان کی پالیسی نے برطانیہ میں بھارتی ووٹروں کو بالکل ہی تنہائی کا شکار کر دیا ۔
جب مقبوضہ کشمیر میں نریندر مودی کی حکومت نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کیا ، تو واٹسن نے برمنگھم میں ایک مقامی کشمیری گروہ کی احتجاجی ریلی میں شرکت کی۔ایک نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق انہوں نے کشمیریوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: "میں آپ کو برطانیہ میں لیبر پارٹی کی جانب سے یکجہتی کا یقین دلاتا ہوں۔ میں نے آپ میں سے بہت سے لوگوں کے ساتھ پچھلے 20 سال سے کام کیا ہے ۔آپ کشمیری اپنے پیاروں کے بارے میں فکر مند ہیں جس کے ساتھ آپ بات چیت نہیں کرسکتے ۔ ہم نے ایسی خبریں پڑھی ہیں کہ لوگوں کو دوائیاں نہیں ملتیں۔ کشمیر میں کھانا ، پانی ، یا بنیادی سہولتیں میسر نہیں ہیں۔
ٹام واٹسن کی کوششوں کی وجہ سے اب بھارتی حکومت کے دباؤ اور دیگر ہتھکنڈوں کے باوجود مڈلینڈز ، یارکشائر اور لنکاشائر میں پاکستانی لیبر پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ پر کشمیر کے حوالے سے بہت زیادہ دباؤ ڈال رہے ہیں۔ساؤتھ ایشین وائر کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر 12 دسمبر کو عام انتخابات کے بعد جیریمی کوربن وزیر اعظم نہیں بھی بنتے تو مقامی حکام پر پاکستانی نژاد ارکان پارلیمنٹ اور کونسلرز کے ذریعہ لیبر پارٹی کا قبضہ اب تقریبا ًمکمل ہوچکا ہے۔
مزید برآںلندن میں اسٹریٹجک ماہرین نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں تناؤ کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے اور کہا ہے کہ پاک بھارت بات چیت شمالی آئرلینڈ میں گڈ فرائیڈے معاہدے کی طرح ایک حل تک پہنچنے میں مدد مل سکتی ہے ۔
اسٹریٹجک ایڈوائزری گروپ سی ٹی ڈی کے مشیروں کے زیر اہتمام ، ‘کشمیر کے بحران کی برطانیہ کیلئے قیمت: کیا کوئی حل ہے؟’ کے ایک پینل مباحثے کے دوران ، ماہرین نے ہندوستان کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی خطے میں تناؤ میںمزید اضافہ نہیں دیکھنا چاہتا ۔ ہم ایک بہت بڑے بحران کی لپیٹ میں ہیں اور عالمی برادری کو پرامن حل تلاش کرنے کے لئے مداخلت کرنا ہوگی ۔
یورپی یونین کے اقتصادی اور عالمی مسائل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل کرسچن لیفلر نے بھی نئی دلی میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ یورپی یونین بھارت کے سلامتی کے خدشات کو تسلیم کرتی ہے تاہم اسے کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق کے حوالے سے بھی یکسان طور پر سخت تشویش ہے۔
انہوںنے کہا کہ گو کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال میں معمولی سی بہتری آئی ہے تاہم صورتحال اب بھی سخت ابتر ہے۔ انہوںنے کہاکہ یورپی یونین کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو تنازعہ کشمیر مذاکراتی عمل کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔ انہوں نے یورپی پارلیمنٹ کے کچھ ارکان کے مقبوضہ کشمیر کے حالیہ دورے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ مروجہ طریقہ کار سے ہٹ کر کرایا گیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں