بابری مسجد کا فیصلہ، ہندو بنیاد پرستی کی بدترین مثال

نعیم صدیقی

بابری مسجد کیس کا فیصلہ آخر کار بھارت کی سپریم کورٹ نے سنا دیا جس کے بعد ایک بات واضع ہو گئی ہے کہ بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کی حکومت ہے جن کے ہوتے ہوئے تمام اقلیتیں بالخصوص مسلانون کی جان اور مال و جائیداد اور عبادتگاہیں غیر محفوط ہیں۔بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے اہم نکات لکھنا ہے لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ گذشتہ روز جب پاکستان کی جانب سے کرتار پور راہداری منصوبے کا افتتاحی پروگرام ترتیب دیا جا رہا تھا اسی روز بھارت کی سپریم کورٹ میں بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنائے جانے کا وقت مقرر کر دیا گیا تھا۔9 نومبر2019 کا دن اس لحاظ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ایک طرف پاکستان خیرسگالی کے طور پر سکھ اقلیتی برادری کیلئے کرتارپور راہداری کا تاریخ ساز افتتاح کرنے کے تمام انتظامات مکمل کر چکا تھا۔دنیا بھر سے ہزاروں سکھ پاکستان آ رہے تھے۔سارے دنیا میں پاکستان کی جانب سے امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کا پیغام جا رہا تھا کہ ایسے میں بھارت نے اسی روز دن کا آغاز بابری مسجد جیسے حساس ترین مقدمے کا فیصلے سنانے کا دن رکھ دیا ۔سپریم کورٹ جو پہلے ہی فیصلہ محفوظ کر چکی تھی اس روز یہ فیصلہ سنا دیا گیا۔ اور جب سپریم کورٹ کے جج فیصلہ سنانے بیٹھے تھے اس وقت سپریم کورٹ اور اطراف میں دفعہ ١٤٤ لگا کر کرفیو جیسا ماحول بنا دیا گیا۔مسلمانوں کی پکڑ دھکڑ اور گرفتاریاں پہلے ہی شروع ہو چکی تھیں۔ستر برسوں سے زیر التوا بابری مسجد رام جنم بھومی اراضی تنازع پر بھارتی سپریم کورٹ کے پانچ ججز پر مشتمل بنچ اپنا فیصلہ سنایا۔تاریخی فیصلے میں پانچ ججز کے بنچ نے کہا 1949 ء میں دو مورتیاں رکھی گئیں تھیں۔دیگر فریقین میں سے شیعہ وقف بورڈ اور نرموہی اکھاڑہ کا دعوی خارج کر دیا گیا کیونکہ وہ ، دعوی قانونی حدود سے باہر تھے نرموہی اکھاڑہ کی قانونی درخواست کو ناقابل تسلیم کہا گیا ہے۔دو میں سے ایک ہندو فریق کا دعوی خارج کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مسجد میں عبادت کرنے والوں کو ایمان کے چنائو کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ ۔ سی جے آئی کے مطابق بابری مسجدخالی زمین پر تعمیر نہیں ہوئی تھی ۔چیف جسٹس آف انڈیا کا کہنا تھا کہ آثار قدیمہ کی رپورٹ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ رپورٹ میں بارہویں صدی کے مندر ہونے کا ذکر ہے۔اے ایس آئی((ASIکی رپورٹ میں واضح نہیں ہے کہ آیا مندر مسمار کیا گیا یا نہیں۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ زمین کا فیصلہ طے شدہ اصولوں پر ہونا چاہیے۔عقیدے کی بنیاد پر حق ملکیت طے نہیں ہوگا۔ مغل بادشاہ بابر کے سپہ سالار میر باقر نے بابری مسجد بنوائی تھی۔ مندر گرا کر مسجد بنانے کا ثبوت نہیں ہے ۔ سنی وقف بورڈ کو قانونی چارہ جوئی کا مکمل حق حاصل ہے۔ عدالت نے لکھا کہ متنازع زمینوں پر مسلمانوں کا قبضہ ہمیشہ سے رہا ہے۔ ہندو ایودھیا کو رام کی جائے پیدائش مانتے ہیں۔ہندوئوں کا عقیدہ ہے کہ رام کی جائے پیدائش بابری مسجد کے مرکزی گنبد کے بالکل نیچے ہے۔اس بات پر کوئی تنازع نہیں ہے کہ رام کی پیدائش ایودھیا میں ہوئی ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق دونوں فریق متنازع جگہ پر اپنی عبادات کو انجام دیتے ہیں،یہ عقیدہ ایک انفرادی معاملہ ہے۔اس بات کے شواہد ہیں کہ مسلمان نماز جمعہ ادا کرتے تھے اور کبھی مسجد سے بے دخل نہیں ہوئے تھے تاہم ہ یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ مسلمان زمین کی ملکیت کا دعوی ثابت نہیں کر سکے۔ واضع رہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میںمندر گراکر مسجد تعمیر کرانے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ مسجد کے اندرونی حصے میں مسلمان نماز ادا کرتے رہے ہیں اور چبوترے پر پوجا بھی ہوتی رہی ہے۔ عدالت نے واضع کہا کہ مسجد کا انہدام لا اینڈ آرڈر کی صریح خلاف ورزی ہے لیکن بلوائیوں کو کبھی گرفتار کر کے مقدمات نہیں چلائے گئے۔ بابری مسجد کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے حکم پرمسلمانوں کو مسجد کی تعمیر کیلئے متبادل زمین دی جائے گی۔ بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ آئین کے نزدیک سبھی عقیدے مساوی ہیں۔مسلمانوں نے ایسی کوئی شہادت پیش نہیں کی، جس سے یہ ثابت ہو کہ1857 سے قبل ان کے احاطے پر مکمل مالکانہ حقوق ہیں۔مسلمانوں کو کسی قانونی اتھارٹی نے بے دخل نہیں کیا۔تنازع کی وجہ سے مسلمانوں کو مسجد سے محروم رہنا پڑا۔متنازع زمین رام للا کے حوالے سنی وقف بورڈ کو الگ سے 5 ایکڑ زمین دی جائے گی۔متبادل زمین مسلمانوں کو براہ راست الاٹمنٹ کے ذریعے دی جائے گی۔سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ایک ٹرسٹ بنانے کا حکم دیا ہے۔مرکزی حکومت کا ٹرسٹ مندر کی تعمیر کی نگرانی کرے گا۔اندرونی اور باہری چبوترہ ٹرسٹ کو دیا جائے گا۔ بھارت کی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے مقدمے کا فیصلہ کرنے کیلئے اے ایس آئی کی رپورٹ کو بنیاد بنایا ہے۔ با دیکھتے ہیں کہ مقبوضہ وادی کو جب سے بھارت نے اپنا زبردستی حصہ بنا دیا ہے اس کے بعد سے اب تک وہاں کیا حالات ہیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر اب ایک ریاست نہیں ہے۔ بھارت کا تاج کہلانے والی ریاست اب دو حصوں میںتقسیم کر دی گئی ہے ۔ریاست کو خصوصی آئینی درجہ دینے والی دفعہ 370 ،غیر فعال ہے اور حکومت کہتی ہے کہ اس دفعہ کے خاتمے سے جموں و کشمیر میں ترقی ہو گی۔وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے وہی کیا جسکا انکی پارٹی بی جے پی نے کئی سال سے وعدہ کیا تھا۔ وہ پارلیمنٹ میں اکثریت کے منتظر تھے اور جونہی انہیں طاقت حاصل ہوئی، انہوں نے وعدے کو عملی جامہ پہنایا۔ لیکن ایک وعدہ ہے جو ریاست کو تقسیم کرنے کے بعد پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ جموں و کشمیر، ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہورہا ہے اور نہ ہی تشدد کا بھیانک سایہ اس خطے کا پیچھا چھوڑنے پر آمادہ نظر آتا ہے۔جموں و کشمیر کو دو یونین ٹریٹریز میں تقسیم کیے جانے کے خلاف مقبوضہ وادی میں میں کاروبار زندگی تین ماہ سیبرباد ہوگیا ہے۔ پہلے سخت ترین بندشیں عائد کیں اور بعد میں غیر اعلانیہ ہڑتال کا سلسلہ شروع ہوا۔ تین ماہ سے جاری غیر یقینی صورتحال کے سبب ہر شعبہ اور طبقہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔کشمیر کی معیشت پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ 3 ماہ کے دوران ہوٹلز اور نجی اداروں میں کام کرنیوالے 2 لاکھ سے زائد افراد بے روزگار ہوگئے ہیں۔ یہ سلسلہ روز بہ روز بڑھتا ہی جا رہا ہے۔باغبانی اور سیاحت کی صنعتیں کشمیر کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، تقریبا 7 لاکھ افراد کا روزگار اس صنعت سے وابستہ ہیں، لیکن موجودہ صورتحال میں تجارتی اور سیاحتی سرگرمیاں نہ ہونے کے باعث وادی کی معشیت برباد ہو گئی ہے۔ قالین بافی، ریشم اور شال سازی، پیپر ماشی اور دیگر دستکاریاں تقریبا تین لاکھ سے زائد افراد کے روزگار کا وسیلہ تھیں لیکن یہ صنعتیں دن بدن دم توڑتی نظر آرہی ہیں ۔ شہر و دیہات میں رہنے والے ہزاروں نوجوان اس صورتحال کے نتیجے میں بیروزگار ہورہے ہیں۔یہ بھارت کا بدترین چہرہ ہے جس نے اسی لاکھ کی آبادی پر مشتمل مقبوضہ وادی مایوسیوں میں دھکیل دیا ہے اور اب بابری مسجد کا من مرضی کا فیصلہ لیکر بھارت میں رہنے والے بیس کروڑ سے زائد مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کر دیا ہے۔بھارت پاکستان کا دوست نہیں ہو سکتا۔نریندر مودی ہندو بنیاد پرست اور انتہا پسند ہے اس سے تعاون کے توقع رکھنے کی بجائے مقابلے کی تیاری کی جائے تو یہ پاکستان کے حق میں لاکھ درجے بہتر ہوگا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں