آزاد عالمی پینل نے مرسی کی موت کو قتل قرار دے دیا

نیو یارک (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ کے آزاد پینل نے سابق مصری صدر محمد مرسی کی وفات کو مصری حکومت کی حراست میں قتل قرار دے دیا۔ ماہرین کے پینل نے کہا کہ محمد مرسی کو تورا جیل میں پانچ سال تک سفاکانہ حالت میں قید رکھا گیا، جبکہ انہیں ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کی بیماریاں تھیں۔ پینل نے کہا کہ سابق صدر کی تیزی سے گرتی ہوئی صحت سے متعلق خبردار کرنے کے باوجود انہیں زندگی بچانے والے اقدامات سے محروم رکھا گیا۔ واضح رہے کہ رواں برس 17 جون کو مصر کے سابق منتخب صدر محمد مرسی کمرہ عدالت میں بے ہوشی کے بعد اسپتال منتقل ہوتے ہوئے انتقال کرگئے تھے ۔ محمد مرسی پر قطر کے لیے جاسوسی کا الزام تھا جس کی سماعت کے لیے وہ کمرہ عدالت میں موجود تھے ۔ عدالت برخاست ہونے کے بعد 67 سالہ محمد مرسی بے ہوش ہوگئے اور اسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں دم توڑ گئے ۔ محمد مرسی 30جون 2012ء سے 3 جولائی 2013ء تک مصر کے صدر رہے۔ محمد مرسی مصر کے پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر تھے اور صرف ایک سال کے اندر ہی 2013ء میں مصری فوج نے ان کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں