عالمی سیاست کے لیے یورپ کو ’طاقت کی زبان‘ سیکھنا ہوگی‘ رہنما

برلن: یورپی کمیشن کی آیندہ صدر ارسلا فان ڈیئر جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے ساتھ ’یورپی پالیسی‘ پر گفتگو کررہی ہیں
برلن: یورپی کمیشن کی آیندہ صدر ارسلا فان ڈیئر جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے ساتھ ’یورپی پالیسی‘ پر گفتگو کررہی ہیں

برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی کمیشن کی اگلی خاتون صدر نے کہا ہے کہ یورپی یونین کو عالمی سیاست میں کردار ادا کرنے کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے ۔ یورپی کمیشن کی آیندہ صدر جرمنی کی سابق وزیردفاع ارسلا فان ڈیئر لائن ہیں۔ انہوں نے جرمن دارالحکومت برلن میں یورپی پالیسی کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کو بھی اب طاقت کی زبان سیکھنے کی ضرورت ہے۔ سابق جرمن وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ یورپ کو اپنی قوت بڑھانا ہوگی، جس کی وجہ سے سیکورٹی پالیسیوں کے تناظر میں دوسروں پر انحصار کرتے رہے ہیں۔ فان ڈیئر کے مطابق یورپی مفادات کو مدِنظر رکھتے ہوئے اب یونین کو اپنی موجودہ قوت کو اپنے اہداف کے حصول کے لیے استعمال کرنا چاہیے ۔ برلن میں تقریر کرتے ہوئے یورپی کمیشن کی اگلی صدر نے کہا کہ یورپی یونین کے رکن ممالک کو بھی اس بلاک کی مضبوط پوزیشن کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہو گا۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ قدرے ہلکی طاقت کے استعمال کی سابقہ اسٹرٹیجی موجودہ دور میں قابل استعمال نہیں رہی ہے ۔ تقریر کے دوران فان ڈیئر نے یورپ اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے کردار پر بھی اظہار خیال کیا۔ نیٹو پر فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں کی تنقید کے تناظر میں انہوں نے مزید کہا کہ تمام مشکل حالات کے باوجود اس فوجی عسکری اتحاد نے آزادی کے تحفظ کو ایک محفوظ چھتری فراہم کی ہے ۔ فان ڈیئر کے مطابق ایک جانب تو برطانیہ کا یورپی یونین سے انخلا صدمے کا باعث تھا تو دوسری جانب اس عمل نے بلاک کو قریب کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے بریگزٹ کی پیچیدگیوں کے تناظر میں کہا کہ اس کی وجہ سے یونین کو قوت حاصل ہوئی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں