کرتارپور راہداری کا افتتاح ۔ یہ شروعات ہے ،بھارت سے ایسے تعلقات ہونگے جو ہونے چاہییں تھے، عمران خان

کرتارپور: وزیراعظم عمران خان کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے ہیں
کرتارپور: وزیراعظم عمران خان کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے ہیں

نارووال(خبرایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کا افتتاح کردیا۔افتتاحی تقریب گوردوارے کے احاطے میں ہوئی جس میں سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ، کانگریس رہنما نوجوت سنگھ سدھو، بی جے پی کے رہنما اور بھارتی اداکار سنی دیول اور بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ، سفارتکاروں اوراہم شخصیات سمیت 68ممالک سے سیکھ یاتریوں نے شرکت کی۔عمران خان گوردوارے میں پہنچے جہاں انہوں نے منموہن سنگھ اور دیگر شخصیات سے مصافحہ کیا جب کہ وہ سابق کرکٹر اور کانگریس رہنما نوجوت سنگھ سدھو سے گلے ملے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سکھ برادری کو بابا گرونانک کی 550 ویں سالگرہ کی مبارکباد دیتا ہوں، یہ صرف شروعات ہے، ایک دن بھارت سے ایسے تعلقات ہوں گے جو ہونے چاہیے تھے۔ راہداری کی قلیل مدت میں تعمیر پر عمران خان نے کہا کہ اندازہ نہیں تھا کہ میری حکومت اتنی قابل ہے، اس کا مطلب ہے کہ ہم اور کام کرسکتے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سدھو نے آج دل سے شاعری کی، دل میں اللہ بستا ہے، آپ کسی کو بھی خوشی دیتے ہیں تو آپ رب کو خوشی دیتے ہیں ، خدا سارے انسانوں کا ہے، اللہ کے ہر پیغمبر نے انصاف اور انسانیت کی بات کی، گرونانک نے بھی انسانیت کی بات کی۔عمران خان نے کہا کہ مجھے کرتارپور کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا، مجھے سال پہلے پتا چلا اس کی اہمیت کیا ہے، یہ ایسے ہے جیسے ہم مدینہ کو 5کلو میٹر سے دیکھ سکیں لیکن جا نہ سکیں، اس پر مسلمانوں کو کتنی تکلیف ہوگی، یہ دنیا کی سکھ برادری کا مدینہ ہے جہاں آپ لوگوں کو دیکھ کر خوشی ہورہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لیڈر نفرتیں نہیں پھیلاتا اور جو نفرت پھیلاکر ووٹ لیتا ہے وہ لیڈر نہیں ہوتا، ہم ہمسایوں کی طرح بات چیت کرکے اپنا مسئلہ حل کرسکتے ہیں، جب منموہن سنگھ وزیراعظم تھے تو انہوں نے کہا کہ تمام برصغیر اٹھ سکتا ہے، بس ہم کشمیر کا مسئلہ حل کریں اور میں نے یہی بات مودی کو کہی کہا کہ ہم یہ مسئلہ کیوں حل نہیں کرتے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے آج جو کشمیر میں ہورہا ہے یہ زمینی مسئلے سے اوپر نکل گیا اور یہ انسانی حقوق کا مسئلہ بن گیا ہے۔عمران خان نے کہا کہ 80 لاکھ لوگوں کے سارے انسانی حقوق ختم کرکے 9 لاکھ فوج کے ذریعے بند کیا ہوا ہے، یہ انسانیت کا مسئلہ ہے، جو حق اقوام متحدہ نے انہیں دیا وہ چھین لیا، اس طرح کبھی امن نہیں ہوگا، اس وجہ سے سارے تعلقات رکے ہوئے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مودی اگر میری بات سن رہے ہیں تو سنیں انصاف سے امن ہوتا ہے نا انصافی سے انتشار پھیلتا ہے، کشمیر کے لوگوں کو انصاف دیں اور برصغیر کو آزاد کردیں، ہمیں اس مسئلے سے آزاد کریں تاکہ ہم انسانوں کی طرح رہ سکیں، سوچیں بارڈر کھلے گا اور تجارت ہوگی تو کتنی خوشحالی آئے گی، ہم لوگوں کو غربت سے نکال سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خوشی ہے آپ کے ساتھ یہ دن منایا، اندازہ لگاسکتے ہیں آپ کے دل میں کس طرح کے تاثرات ہوں گے، امید ہے اگر ہمارا کشمیر کا مسئلہ حل ہوجاتا ہے تو ایک دن ہمارے تعلقات اور حالات بھارت سے وہ ہوں گے جو ہونے چاہیے تھے۔عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ دیکھ رہا ہوں کہ 70 سال سے اس مسئلے کے حل نہ ہونے کی وجہ سے نفرتیں ہیں لیکن جب مسئلہ کشمیر حل ہوجائے گا توبرصغیر میں بھی خوشحال آئے گی اور خطہ اٹھ جائے گا، وہ دن دور نہیں ہے۔
عمران خان

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں