جاوید بھٹو کے قتل کے بعد واشنگٹن کے محکمہ صحت میں اصلاحات

واشنگٹن ڈی سی میں پاکستان کے ممتاز دانشور جاوید بھٹو کے قتل نے شہری انتظامیہ کو محکمہ صحت میں اصلاحات پر مجبور کردیا ہے۔ وائس آف امریکہ کی صحافی نفیسہ ہود بھائی کے شوہر جاوید بھٹو کو اس سال مارچ میں ان کے ایک پڑوسی نے فائرنگ کر کے قتل کردیا تھا۔ ملزم کے بارے میں انکشاف ہوا کہ وہ ذہنی مریض ہے اور ماضی میں بھی ایک شخص کو قتل کر چکا تھا۔

واشنگٹن ڈی سی کی صحت سے متعلق کمیٹی کا بدھ کو چھ گھنٹے طویل اجلاس ہوا جس میں دوسرے معاملات کے علاوہ جاوید بھٹو کے قتل کے واقعے پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔

سینٹ الزبتھ اسپتال کے رویوں کا جائزہ لینے والے شعبے کی ڈائریکٹر باربرا بیزرون نے بتایا کہ جاوید بھٹو کے قتل کے بعد ذہنی مریضوں سے متعلق ریویو بورڈ کے سربراہ کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس میں ایک ماہر نفسیات کو شامل کیا گیا ہے جب کہ عدالتی حکم پر ایک نیا نظام وضع کیا گیا ہے تاکہ مریضوں کی متواتر جانچ جاری رکھی جائے۔ اس کے علاوہ اسپتال ایک فورینسک ماہر کا تقرر بھی کرے گا تاکہ بیرونی مریضوں کا بھی جائزہ لیا جا سکے۔

ایک دن پہلے محکمے نے تسلیم کیا تھا کہ وہ قتل کے ملزم ذہنی مریض چھیالیس سالہ ہملٹن جورڈن کی موثر نگرانی نہیں کر سکا تھا۔

جورڈن نے 1998 میں ایک دوست کو قتل کرنے کے بعد 17 سال سینٹ الزبتھ اسپتال میں گزارے تھے۔ اسے 2015 میں رہا کر دیا گیا تھا۔ 2018 میں اس کے ایک ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ وہ ماری یوانا استعمال کررہا ہے جس سے اس کی بیماری میں شدت آ سکتی ہے۔ لیکن اس کے بعد وہ اسپتال نہیں آیا اور اسپتال نے بھی اس کی خبر گیری نہیں کی۔

باربرا بیزرون نے بتایا کہ ان کے ادارے نے 65 ایسے مریضوں کے کیسز کا جائزہ لیا ہے جو ماضی میں جرم کر چکے ہیں۔ اس کا مقصد مستقبل میں کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنا ہے۔

سابق میئر اور ہیلتھ سروسز کے چیئرمین ونسینٹ گرے نے کہا کہ ایک رپورٹ میں اسپتال کی انتظامیہ نے ملزم کی نگرانی نہ کرنے کے باوجود اس قتل کی ذمے داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ دوسری جانب صحت سے متعلق ڈپٹی میئر وین ٹرنیج نے واشنگن پوسٹ کو انٹرویو میں تسلیم کیا کہ شہری انتظامیہ نے غلطیاں کیں اور ان کے نتیجے میں ایک شہری کا بھیانک قتل ہوا۔ ونسینٹ گرے نے سوال کیا کہ یہ دونوں موقف ایک دوسرے سے متضاد کیوں ہیں؟ ڈائریکٹر باربرا بیزرون صرف اتنا کہہ سکیں کہ ان کے خیال میں یہ الم ناک واقعہ تھا۔ آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے نظام بنادیا گیا ہے۔

جاوید بھٹو کی بیوہ اور وائس آف امریکہ کی صحافی نفیسہ ہودبھائی نے کہا کہ ان کے خیال میں انتظامیہ اصلاحات کے لیے سنجیدہ ہے۔ ان کا نقصان اتنا بڑا ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ انتظامیہ کو اتنا بڑا نقصان ہونے کے بعد اصلاحات کا خیال آیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں