ترکی میں قائم امریکی فوجی اڈے کا مستقبل خطرے میں

ایسے میں جب عشروں بعد امریکہ ترک تعلقات اپنی نچلی ترین سطح پر ہیں، ان دنوں ترکی میں قائم امریکی فضائیہ کے اڈے کا مستقبل موضوع بحث بنا ہوا ہے۔

وسیع ’انسرلک ایئر بیس‘ جنوبی ترکی میں شام کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔ ایک طویل عرصے سے یہ امریکہ ترک تعاون کی علامت بنا ہوئی ہے۔ جب سرد جنگ زوروں پر تھی، یہ فوجی اڈا نیٹو پارٹنر کی جانب سے سویت یونین کے خلاف امریکہ کے پختہ عزم کا غماز تھا۔

ترک صدر کے بیرونی پالیسی کے مشیر، پروفیسر مسعود کاسن نے کہا ہے کہ ’’ہمیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ انسرلک مشرق وسطیٰ کے فوجی اڈوں میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے، جس فضائی اڈے پر حکمت عملی کے حامل جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ترکی اب تک نیٹو تنظیم کی افادیت کا پاسدار ہے‘‘۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اس تنصیب پر امریکہ نے تقریباً 50 جوہری بم رکھے ہوئے ہیں۔ سرد جنگ کے دوران ہتھیار رکھنے کا مقصد ترک سرحد کے ساتھ موجود سویت برٓی افواج کی پیش قدمی روکنا تھا۔

تاہم، کئی قسم کے مسائل درپیش ہیں جن کے باعث ترکی اور امریکہ کے درمیان دوریاں حائل ہیں، جن میں ترکی کی جانب سے روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط اور امریکی جیٹ طیارے کے منصوبے سے ترکی کو الگ کیا جانا شامل ہیں جن کی وجہ سے انسرلک کا مستقبل غیر واضح ہے۔

ترک جارحیت سے متعلق قانون سازی کا معاملہ جو اس وقت سینیٹ میں زیر بحث ہے، اور جس کے متن پر ایوان کے دونوں اطراف کے قانون سازوں کی حمایت حاصل ہے، اس کے تحت ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ضروری ہوگا کہ انسرلک کی تنصیب پر ’’اہل کاروں اور اثاثوں‘‘ کی متبادل منتقلی کے اقدام کیے جائیں۔

یہ قانون سازی ایسے میں سینیٹ میں پیش کی گئی ہے جب ترکی نے شام میں کرد ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا، جو داعش کے خلاف لڑائی میں امریکہ کا اتحادی ہے۔

ایوانِ نمائندگان میں مسلح افواج کی قائمہ کمیٹی کی رکن، کیندرا ہورن نے گزشتہ ماہ ایک ٹوئیٹ میں کہا تھا کہ ’’مجھے اس بات پر سخت تشویش ہے کہ حکمت عملی والے یہ جوہری ہتھیار ترک سرحد کے اندر واقع فضائی اڈے پر موجود ہیں۔‘‘ بعدازاں، ہورن نے اپنا یہ ٹوئیٹ ہٹا دیا تھا۔

سابق ترک سفیر، مدہت راندے نے کہا ہے کہ ’’وہ (کانگریس) انسرلک سے جوہری ہتھیار ہٹانے کی بات کر رہی ہے۔ اگر یہ (جوہری ہتھیار) ہٹائے جاتے ہیں تو یہ بات (امریکہ اور ترکی) کے درمیان عدم اعتماد کی بڑی علامت بن جائے گی۔‘‘

تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ روس کی یہی کوشش ہوگی کہ انسرلک پر امریکی فوج اور اثاثوں میں کمی لانے کا فائدہ وہ خود اٹھائے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں