دماغی امراض کا بڑا سبب فضائی آلودگی ہے: رپورٹ

امریکہ کی یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا میں کیے گئے ایک مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ فضائی آلودگی، دماغی امراض کا بڑا سبب ہے۔

فضائی آلودگی سے انسانی حافظے کی کمزوری کے ساتھ ساتھ الزائمر جیسے دماغی مرض کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ آلودہ فضا میں سانس لینے والے افراد خاص طور پر خواتین کو الزائمر کا زیادہ خطرہ رہتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق الزائمر امریکہ میں موت کی چھٹی اہم وجہ ہے اور فی الحال اس کا کوئی علاج بھی نہیں۔ الزائمر کے مرض میں مریض کا حافظہ کمزور ہو جاتا ہے اور اسے زیادہ تر چیزیں یاد نہیں رہتیں۔

یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا میں ہونے والی یہ تحقیقی رپورٹ "برین” نامی میڈیکل جنرل میں بھی شائع ہوئی ہے۔

یونیورسٹی کے کیک اسکول آف میڈیسن سے وابستہ کلینیکل نیور لوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر اینڈریو پیٹکس کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی اور الزائمر کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ جو خواتین فضائی آلودگی کا شکار ہوتی ہیں انہیں صاف ہوا میں سانس لینے والی خواتین کے مقابلے میں الزائمر جیسے دماغی مرض کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پروفیسر اینڈریو کے مطابق اس طرح کا مطالعہ پہلی مرتبہ کیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ فضائی آلودگی لوگوں کے ذہنوں میں تبدیلی کا سبب بنتی ہے اور یہ ایسی تبدیلیاں ہیں جن سے حافظہ کمزور ہو جاتا ہے۔

پروفیسر اینڈریو کے مطابق انہیں توقع ہے کہ فضائی آلودگی سے حافظے میں کمزوری کو بہتر طور پر سمجھنے کے بعد اس کا تدارک بھی آسانی سے ہو سکے گا۔

ماہرین کے مطابق ٹریفک اور فیکٹریوں کا دھواں، دھول مٹی اور ریت کے چھوٹے چھوٹے ذرات ہوا میں موجود رہتے ہیں جو سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوکر دماغ تک پہنچ جاتے ہیں جن سے الزائمر جیسے امراض پھیلتے ہیں۔

فضائی آلودگی سے پھیلنے والے دیگر امراض اس کے علاوہ ہیں مثلاً استھما، امراض قلب، پھپھڑوے کا مرض اور قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی اموات اس میں شامل ہیں۔

مطالعے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ باریک ذرات کے دماغ تک رسائی حاصل کرنے کے نتیجے میں الزائمر کے علاوہ بھی کئی امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جب کہ ان امراض کے نتیجے میں حافظے میں بہت تیزی سے کمزوری واقع ہوتی ہے۔

ماہرین نے 998 خواتین پر تحقیق کی جن کی عمریں 73 سال سے 87 سال کے درمیان تھیں۔

لاہور میں اسموگ کی واپسی





please wait



No media source now available

اس کے علاوہ ایک لاکھ 60 ہزار خواتین سے جنہیں دل کی بیماری، کینسر اور آسٹیوپورسس جیسے امراض لاحق تھے ان سے مختلف سوالات پوچھے گئے اور ان کی جانب سے ملنے والے جوابات کو جانچ پڑتال کے بعد مطالعے کا حصہ بنایا گیا۔

مطالعے کی غرض سے تقریباً ایک ہزار خواتین کے دماغ کو اسکین بھی کیا گیا جب کہ ان کی رہائش، علاقوں اور دیگر چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی تحقیق کی گئی جب کہ جن علاقوں میں وہ رہتی تھیں وہاں کی ہوا کو بھی جانچا گیا تاکہ فضا میں موجود ذرات کا گہرائی سے مطالعہ کیا جاسکے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں