ریفنڈ کی عدم ادائیگی، سیکڑوں صنعتوں کی پیداواری سرگرمیاں معطل

کراچی: برآمدی شعبے کی مختلف ریفنڈز کی مد میں 128ارب روپے کی عدم ادائیگیوں کے باعث سیکڑوں چھوٹی ودرمیانی درجے کی برآمدی صنعتوں نے اپنی پیداواری سرگرمیاں معطل کردی ہیں۔

ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹرکے ذرائع نے ایکسپریس کوبتایا کہ جولائی2019 سے قبل شعبہ ٹیکسٹائل کے برآمدکنندگان کے پرانے زیرالتوا سیلزٹیکس ریفنڈکی مالیت تقریبا50ارب روپے، زیرالتوا کسٹمز ریبیٹ کی مالیت12ارب روپے جبکہ ڈی ڈی ٹی اورڈی ایل ٹی ایل کی مد میں 56ارب روپے اور 8ارب روپے ودہولڈنگ ٹیکس کلیمزکی مد میں زیرالتوا ہیں۔ حکومت کی جانب سے واجبات کی عدم ادائیگیوں میں مزید تاخیر سے ایس ایم ای سیکٹر کی سیکڑوں برآمدی صنعتوں کی بندش کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔

پاکستان اپیرل فورم کے چئیرمین جاویدبلوانی نے ایکسپریس کو بتایاکہ برآمدی شعبے کے اربوں روپے کی لیکویڈٹی سیلز ٹیکس ریفنڈز، کسٹمز ریبیٹ، ودہولڈنگ ٹیکس، ڈیوٹی ڈرابیک آن ٹیکسز اور ڈیوٹی ڈرابیک آن ٹیکسس اینڈ لیویز کی مد میں حکومت کے پاس پھنس چکی ہے جس سے مالی دباؤمیں آنے والے برآمدکنندگان اپنے برآمدی آرڈرز کی تکمیل سے متعلق تذبذب کاشکار ہیں۔

مالیاتی بحران کی وجہ سے ایس ایم ایز اپنی صنعتوں کے آپریشنل اخراجات پورے نہیں کرپارہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ سیکڑوں اسمال و میڈیم ایکسپورٹ انڈسٹریزنے اپنی پروڈکشن بند کردی ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے حکومت نے ریفنڈز کی فوری ادائیگیاں نہ کیں تو مستقل بنیادوں پر سیکڑوں صنعتیں بند ہوجائیں گی۔

جاوید بلوانی نے بتایا کہ ایکسپورٹرز کے لیے سیلز ٹیکس ریفنڈز کے کلیمز کی ادائیگی کیلیے مکمل خودکارسیلز ٹیکس ای ریفنڈ(فاسٹر) سسٹم کی سست اور ناقص کارکردگی کے باعث ایکسپورٹرز کے صرف سیلزٹیکس کی مد میں تقریباً 62ارب روپے حکومت کے پاس پھنس چکے ہیں۔ماضی میں 5  زیرو ریٹیڈ ایکسپورٹ سیکٹرز کیلیے سابقہ حکومتوں نے سیلز ٹیکس کی شرح صفر رکھی تھی جبکہ موجودہ حکومت نے 17فیصد سیلز ٹیکس نافذ کرتے ہوئے ایکسپورٹرز کو یقین دہانی کرائی تھی کہ نئی حکومتی پالیسی،سیلز ٹیکس قوانین میں ترامیم اور ایف بی آر کے نئے فاسٹر سسٹم کے ذریعے انھیں سیلز ٹیکس ریفنڈز کلیمز داخل کرنے کے72گھنٹوں میں ادائیگیاں کردی جائیں گی مگر کئی سوگھنٹے گزر جانے کے باوجودحکومت ایکسپورٹرز کوادائیگیاں کرنے میں ناکام رہی ہے۔

انھوں نے بتایاکہ حکومت نے ایس آر او 1125کی منسوخی سے قبل یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ بنگلہ دیش ماڈل کے طرح ایکسپورٹرز کو جی ڈی داخل کرنے کے فوری بعد ریفنڈز کی ادائیگی کردی جائے گی۔متعارف کردہ فاسٹر سسٹم کی ناکامی کے باعث ایف بی آر کلیمز کو دستی طریقے سے پراسیس کر رہی ہے اور اسٹیٹ بینک ایف بی آر کی ایڈوائس پر ایکسپورٹرز کو ریفنڈکلیمز کی ادائیگیاں کر رہا ہے۔

سیلز ٹیکس کے پرانے کلیمز بابت ادائیگیوں کیلیے خودکار طریقے سے ریفنڈبانڈزبھی جاری کیے گئے لیکن یہ بانڈزچند روز قبل ہی خودکارنظام کے ذریعے ایکسپورٹرز کے سی ڈی سی اکاؤنٹس سے واپس نکال لیے گئے جسکے بعدتاحال ایکسپورٹرز کے اکاؤنٹس میں رقوم منتقل نہیں کی جاسکی ۔اسی طرح ایف بی آر نے کسٹمز ریبیٹ کی ادائیگیاں بھی خودکار طریقے سے ایکسپورٹرز کو کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی جس پر تاحال عمل درآمد نہ ہو سکا اور ادائیگیوں کا بیک لاگ 8ماہ سے بڑھ کر 12ماہ تک پہنچ گیا ہے۔

علاوہ ازیں 9جولائی 2019 کیایس آر او 747(I)/2019کے تحت برآمدی نوعیت کے صنعتی یونٹس اور ایس ایم ای انٹرپرائزز رولز2008میں ترامیم کی گئی ہیں جس کے رول 10سب رول1کی شق بی اور سی کو حذف کردیا گیاہے جس کی وجہ سے آئندہ ایکسپورٹرز لوکل ان پٹ گڈز زیروریٹیڈ سیلز ٹیکس انوائس پر حاصل نہیں کرسکیں گے جو کہ ترامیم سے قبل ایکسپورٹرز کو مل رہی تھی۔

انھوں نے حکومت کومتنبہ کیا کہ ایکسپورٹرز کو سیلز ٹیکس ریفنڈز میں ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے شدید بے چینی اور غیریقینی صورتحال کاسامناکررہے ہیں۔ اگرحکومت نے فوری ادائیگیاں یقینی نہ بنائیں تووہ ریفنڈز میں تاخیر کی وجہ سے میٹریل نہ خرید پائیں گے جس سے پروڈکشن متاثر ہو گی جوبہرصورت ملکی برآمدات میں کمی کا باعث بنے گی۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں