کہکشاں میں سورج سے 70 گنا بڑا ‘بلیک ہول’ دریافت

ماہرین فلکیات نے کہکشاں میں ایک اور بڑے ‘بلیک ہول’ کو دریافت کیا ہے۔ جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ یہ سورج کے حجم سے 70 گنا بڑا ہے۔

خلائی تحقیق سے متعلق ‘نیچر’ نامی جریدے نے چینی ماہرین فلکیات کی ایک تحقیق شائع کی ہے۔ جس میں اس بلیک ہول کو ‘ایل بی ون’ کا نام دیا گیا ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل ماہرین فلکیات کا یہ خیال تھا کہ سورج کے حجم سے 20 گنا بڑے بلیک ہول موجود نہیں ہیں۔

ایل بی ون کا کھوج لگانے کے لیے چائنیز اکیڈمی آف سائنس کی جانب سے جدید ترین ٹیلی سکوپ (لاموسٹ) استعمال کی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ماہرین فلکیات کو یہ سراغ ملا کہ ستارے نظر نہ آنے والی شہ کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔

اس انکشاف کے بعد امریکہ اور اسپین میں نصب ٹیلی اسکوپ کے ذریعے یہ پتہ چلا کہ سورج سے 8 گنا بڑا ستارہ 79 روز بعد بلیک ہول کے گرد چکر لگاتا ہے۔ ماہرین فلکیات اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ انتہائی بڑا ستارہ ایک سیاہ مادے کے گرد چکر لگا رہا ہے جو زمین سے 15 ہزار نوری سال کی دوری پر موجود ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ ایسا ہی ہے جیسے گھاس میں سے تنکا تلاش کیا جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہزاروں میں ایک ستارہ ہی بلیک ہول کے گرد چکر لگا رہا ہو۔

اس تحقیق کے سربراہ پروفیسر جی فنگ لی کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے بلیک ہول ہماری کہکشاں میں نہیں ہونے چاہئیں، ان کے بقول ‘سٹیلر ایولوشن’ کے تحت عام طور پر انتہائی بڑے ستارے گیسوں کا اخراج طاقتور ہواؤں میں کرتے ہیں کیوں کہ وہ اپنی زندگی کے اختتام پر پہنچ جاتے ہیں۔

لہذٰا انہیں اتنے بڑے پیمانے پر باقیات نہیں چھوڑنی چاہئیں۔ پروفیسر لی کے بقول ایل بی ون ہمارے تصور سے دو گنا بڑا ہے۔ اب یہ تھیورسٹس کا کام ہے کہ وہ اس کی مزید معلومات سامنے لائیں۔

ماہرین فلکیات کے مطابق سٹیلر بلیک ہولز کی اسی صورت میں نشاندہی ہوتی ہے جب وہ اپنے گرد موجود ستاروں سے گیسیں نگلتے ہیں۔ جس کے بعد یہ طاقتور شعاعیں خارج کرتے ہیں۔ لیکن ایسا شازو نازر ہی ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بلیک ہولز کا کھوج لگانا انتہائی مشکل کام ہے۔

/**/
/**/
بلیک ہول کی پہلی تصویر جو 10 اپریل 2019 کو جاری کی گئی

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ہماری کہکشاں 10 کروڑ سے زائد بلیک ہولز اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ ایک حالیہ مشاہدے کے مطابق بلیک ہولز کے آپس میں ٹکرانے سے بڑے بلیک ہولز وجود میں آتے ہیں۔ البتہ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایل بی ون کے حجم کا بلیک ہول پہلی دفعہ کہکشاں میں دریافت ہوا ہے۔

یونیورسٹی آف فلوریڈا کے پروفیسر ڈیوڈ ریٹز کا کہنا ہے کہ حالیہ تحقیق کے بعد ہمیں ازسر نو ان عوامل کا جائزہ لینا ہو گا کہ بلیک ہولز کس طرح وجود میں آتے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں