اقوام متحدہ کا ارامکو حملے میں ایران کا ہاتھ ماننے سے انکار

نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ نے سعودی پیٹرولیم کمپنی ارامکو کی تنصیبات پر حملوں میں ایرانی اسلحہ استعمال کیے جانے کے دعوؤں کی تردید کردی۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے سلامتی کونسل کی ایرانی جوہری معاہدے سے متعلق 2231 کی قرار داد کے حوالے سے آٹھویں رپورٹ کونسل میں پیش کی،جس میں انہوں نے کہا کہ حملے میں استعمال شدہ میزائل اور ڈرونز کے ملبے کا جائزہ لیا گیا، تاہم اس اسلحہ کے ایرانی ساختہ ہونے کے حوالے سے کوئی شواہد نہیں ملے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یمن میں حوثی باغیوں کے پاس بھی اس طرز کا اسلحہ موجود نہیں ہے۔ ششماہی رپورٹ میں ان کا کہنا تھا کہ حملے کی مزید تحقیقات جاری ہے اور اس کی تکمیل کے بعد حتمی رپورٹ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کردی جائے گی۔ یاد رہے کہ سعودی عرب اور امریکا نے ایران پر ان حملوں کا الزام عائد کیا تھا۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کئی بار کہہ چکے ہیں کہ 14 ستمبر کو ارامکو کی 2تنصیبات پر حملوں میں ایران کے ہتھیار استعمال کیے گئے تھے۔ امریکی انٹیلی جنس نے یہاں تک دعویٰ کیا تھا کہ حملہ ایران سے کیا گیا تھا۔ حملے کے دوران ایران نے تیل تنصیبات پر 12کروز میزائل داغے تھے اور کارروائی میں 20سے زیادہ ڈرون استعمال کیے تھے۔ عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے حملے کے 4 روز بعد ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ ایران نے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ حملے یمن سے کیے گئے،جب کہ حقیقت یہ نہیں ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں