سرب قصاب کے مداح کو نوبل انعام ملنے پر احتجاج

سرائیوو/ اسٹاک ہوم: مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے مجرم کو سراہنے کے خلاف بینر آویزاں ہے‘ شہری احتجاج کررہے ہیں‘ آسٹریائی مصنف پیٹر ہینڈکو نوبل انعام دیا جارہا ہے

اسٹاک ہوم (انٹرنیشنل ڈیسک) سوئیڈن میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں رواں سال نوبل انعام پانے والوں کو اعزاز سے نواز دیا گیا۔ اس تقریب میں 2019ء کا نوبل انعام برائے ادبیات آسٹریلیا کے مصنف پیٹر ہینڈکے کو دیا گیا، جس کے خلاف دنیا بھر سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ نوبل انعام سے متعلق سوئیڈش اکیڈمی کے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کے طور پر ترکی، کوسووو، البانیا اور کروشیا نے انعام کی تقریب میں شرکت نہیں کی۔ جب کہ بوسنیا سمیت مختلف ممالک میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ اس موقع پر سڑکوں پر بینر آویزاں کیے گئے، جب کہ مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا کر اس اقدام سے نفرت کا اظہار بھی کیا۔ سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں جمع ہونے والے ماہرین اور صحافیوں نے ہینڈکے سے انعام واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 77 سالہ پیٹر ہینڈکے کو بوسنیائی مسلمانوں کے سرب قصاب ملادو وچ کے مداح کے طور پر جانا جاتا ہے۔ وہ سربرینیتسا کی نسل کشی کو تسلیم نہیں کرتے اور ان کا دعویٰ ہے کہ بوسنیائی باشندوں نے خود اپنے آپ کو ہلاک کیا ہے۔ نوبل ادبیات انعام پیٹر ہینڈکے کو دیے جانے کے خلاف ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مسلمانوں کا خون بہانے والے شخص کو نوبل انعام سے نوازا جانا ایک گھٹیا اور شرمناک حرکت ہے۔ ترکی کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ نوبل انعام پیٹر ہینڈکے کو دے کر تمام انسانی و اخلاقی اقدار کو پیروں تلے روند دیا گیا ہے۔ ترکی کی حزب اقتدار انصاف وترقی پارٹی کے ترجمان عمر چیلک نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک انسانیت کے مجرم کو بے قصور ثابت کرنے کی وجہ سے مشہور شخص کی عزت افزائی نے نوبل انعام کے اعتبار کو بھی مجروح کر دیا ہے۔ جب کہ بوسنیا ہرزیگوینا کے اسپیکر اسمبلی باکر عزت بیگووچ نے کہا کہ ہینڈکے بوسنیا ہرزیگوینا میں سب کچھ جانتا تھا۔ انعام دینے والے بھی ہینڈکے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ اس کے ساتھ ہر جرم میں شامل تھے۔ اس انعام کو منسوخ کیا جائے، ورنہ اس کا کوئی مفہوم باقی نہیں بچے گا۔ اب کے بعد یہ انعام ایک سوالیہ نشان کے طور پر رہے گا۔ کیمیا کے نوبل انعام یافتہ تُرک سائنس دان ڈاکٹر عزیز سانجار نے بھی اس فیصلے کے خلاف ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سربرینیتسا کے شہدا کے سبز غلافوں میں لپٹے قطار در قطار تابوتوں والی ایک تصویر تھی، جسے میں نے 5 سال تک اپنے دفتر کے داخلی حصے میں اپنے نام کی تختی کے ساتھ لٹکائے رکھا، تاکہ ہر روز اس نسل کشی کو یاد کروں۔ میں سربوں کے ہمارے بوسنیائی بھائیوں کو تُرک کہہ کر پکارنے سے بھی واقف ہوں۔ سوئیڈش صحافی کرسٹینا ڈاکٹارے نے بھی نسل کشی کے انکاری ہینڈکے کو نوبل انعام دیے جانے کے خلاف ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کرسٹینا سربرینیتسا نسل کشی کے زمانے میں وہاں موجود تھیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس نسل کشی کی گواہ ہوں۔ انہوں نے امن فوج میں کام کرنے پر ملنے والا نوبل انعام واپس کرنے کا بھی اعلان کیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں