پاکستانی سیاست کا روشن باب اورجمہوریت کی علمبرداربے نظیر بھٹو، نعیم صدیقی

بینظیربھٹو
نعیم صدیقی


محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی تربیت ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو نے کی تھی جنھوں نے پاکستان میں سیاست کو ڈرائنگ روم اور محلات سے نکال کر عوام کے کچے گھروں اور گلی محلوں تک پہنچا دیا لوگوں میں سیاسی شعور اور آگاہی پیدا کی۔ وہ پاکستان کے منتخب وزیراعظم بنے اور ایک ہنگامہ خیز دور حکومت کے بعد مارشل لا کی نذر ہوئے اور آخر کار تختہ دار پر لٹکائے گئے. ان کی والدہ بیگم نصرت اصفہانی تھیں جو ایرانی کردش تھیں لیکن پاکستان کی سیاست میں ہم نے دیکھا انھوں ساری عمر کما ل صبر سے جبر مسلسل کا مقابلہ کیا.. ذوالفقار علی بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو کی شادی ستمبر 1951 میں ہوئی تھی۔ بینظیربھٹو ان کی سب سے بڑی بیٹی تھیں جو 21 جون 1953 کو کراچی میں پیدا ہوئیں. ایک بہن صنم بھٹو.. دو بھائی: مرتضی بھٹو اور شاہنواز بھٹو تھے..ابتدائی تعلیم کراچی میں مکمل کرنے کے بعد ، امریکہ میں اپنی اعلی تعلیم حاصل کی۔بے نظیر بھٹو نے 1969 سے 1973 تک ریڈکلف کالج میں تعلیم حاصل کی اور پھر ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا ، جہاں انہوں نے بیچلر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کی۔برطانیہ میں 1973 سے 1977 تک آکسفورڈ یونیورسٹی سے بین الاقوامی قانون اور ڈپلومیسی کا کورس مکمل کیا۔1977 میں بے نظیر بھٹو پاکستان واپس آئیں جنرل محمد ضیا الحق کی سربراہی میں فوجی بغاوت کے بعد ان کے والد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد انہیں نظربند کردیا گیا تھا۔ ضیا الحق کے 1978 میں صدر بننے کے ایک سال بعدبھٹو کو مخالفین کے قتل کے الزام میں سزا سنانے کے بعد پھانسی دے دی گئی.. جس کے بعد محترمہ نے والدہ کے ساتھ ملکر پارٹی کو سنبھالا ۔1980 میں بھائی شاہنواز کو رویرا فرانس میں واقع اپنے اپارٹمنٹ میں ہلاک کردیا گیا تھا۔ان کی بیوی پر زہر دینے کا الزام لگایا گیا۔دوسرے بھائی مرتضی بھٹو کو1996 میں کراچی میں پولیس مقابلے میں مار دیا گیا جب محترمہ وزیراعظم پاکستان تھیں۔1984 میں انگلینڈ چلی گئیں 10 اپریل 1986 کوانتخابات کے لئے ملک گیر مہم چلانے کے لئے پاکستان واپس آئیں۔18 دسمبر 1987 کو کراچی میں جاگیر دارآصف علی زرداری جو بعدازں پاکستان کے صدر بنے ان سے شادی کی. ان کے ہاںتین بچے : بیٹا بلاول اور دو بیٹیاں ، بختاور اور آصفہ پیدا ہوئے۔یکم دسمبر 1988 کو پہلی مسلمان خاتون وزیر اعظم منتخب ہوئیں۔1990 کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو کو شکست ہوئی تھی ان پر بدعنوانی کے کئی الزامات لگے جن کے خلاف اپنا دفاع عدالت میں کرتی رہیں۔ وہ ایک بہترین اپوزیشن لیڈر ثابت ہوئیںاور 1993 میں دوبارہ الیکشن جیت کر وزیراعظم بنیں ، لیکن 1996 میں ان کی حکومت بدعنوانی کے الزام میں ختم کردی گئی..برطانیہ اور دبئی میں خود ساختہ جلاوطنی کے دوران ، انہیں 1999 میں بدعنوانی کے الزام میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی ۔ وہ بیرون ملک سے اپنی پارٹی کی رہنمائی کرتی رہیں ، 2002 میں ان کی وطن واپسی سابق صدر پرویز مشرف دور میں ہوئی۔ اکتوبر 2007 کو ، صدر مشرف کی حکومت میںبدعنوانی کے تمام الزامات پر معافی مانگنے کے بعد ، ان کی وطن واپسی کے لئے راستہ ہموار ہوا جبکہ اقتدار میں شیئر کرنے کا ایک ممکنہ معاہدہ بھی ہوا تھا جسے انھوں نے رد کر دیا تھا۔
آٹھ سال کی جلاوطنی کے بعد بے نظیربھٹو کی وطن واپسی پر کراچی میں کارساز کے مقام پر پیپلز پارٹی کی ریلی کے دوران ان کی گاڑی کو ایک خود کش حملے کا نشانہ بنایا گیا یہ بہت بڑا سانحہ تھا جس کا مقصد بے نظیر کو سیاست سے دور رکھنا تھا ، جس میں 136 افراد ہلاک ہوگئے۔ وہ اس حادثے میں محفوظ رہیں۔بے نظیر بھٹو نے کہا تھاکہ یہ پاکستان کا "سیاہ ترین دن” تھا جب پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو ایمرجنسی نافذ کردی تھی جس پر بے نظیر نے دھمکی دی تھی کہ وہ بڑ ے پیمانے پر مظاہروں میں اپنے حامیوں کو سڑکوں پر لائیں گی۔بے نظیر بھٹو کو 9 نومبر کو فورابعد ہی نظربند کردیا گیا تھا ، اور چار دن بعد پرویز مشرف سے استعفی طلب کیا گیا تھا۔ دسمبر 2007 میں پاکستان کی ہنگامی صورتحال ختم کردی گئی تھی..27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی میں انتخابی مہم کے جلسے کے بعد جب ایک قاتل نے گولیاں چلائیں اور پھر خود کو دھماکے سے اڑا لیا اس خود کش حملے میں بے نظیر کی شہادت ہو گئی۔۔حملے میں 28 افراد جاں بحق اور قریبا 100 زخمی ہوگئے۔ بے نظیر نے لیاقت باغ جلسہ ختم کیا۔ واپس روانگی ہوئی ۔چند منٹ بعد ہی حملہ ہوا۔اس موقع پر صدر مشرف نے کہا تھاکہ انہوں نے برطانیہ کے اسکاٹ لینڈ یارڈ سے تفتیش کاروں کی ایک ٹیم سے بھٹو کے قتل کی تحقیقات میں معاونت کے لئے کہا ہے لیکن آج تک بے نظیر کے قاتلوں کا پتہ نہ چل سکا..پانچ سال پیپلز پارٹی کی حکومت رہی..کچھ پولیس افسران کو سزائیں دی گئیں کہ اس سانحہ کے بعد موقع سے سارے نشان مٹا دیے گئے تھے۔جس کا ذمہ دار ان کو ٹھہرایا گیا تھا۔بے نظیر پاکستانی سیاست کا ایک روشن باب تھا جس نے ساری زندگی جمہوریت کی سربلندی کیلئے جدوجہد کی اور اسی جدوجہد کے دوران عوام کے درمیان موت کا گلے سے لگا لیا…انھیں معلوم تھا کہ ان کی جان خطرے میں ہے لیکن موت سے ڈرنے والے لوگ سیاست نہیں کر سکتے، بلکہ وہ عوام کی نظروں سے گر جاتے ہیں.آج کا پاکستان معاشی طور پر بہت کمزور ہے۔سیاست اور جمہوریت اختلادفات میں الجھ گئے ہیں جس کی وجہ سے ملک اور قوم کا بہت نقصان ہو رہا ہے۔پاکستان کو اعلی ترین صلاحیت کی حامل محب وطن اور مخلص قیادت کی ضرورت ہے جس کا اول و آخر مقصد و نصب العین ملک کی سربلندی ، استحکام اور عوام کے بنیادی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پپرحل کرنا ہو ہماری ارباب اختیار و اقتدار سے گذارش ہے کہ ملک اور قوم کی مشکلات میں کمی کیلئے مثبت اقدامات کریں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں