آتش فشانی سے منیلا راکھ میں ڈوب گیا،عوام کا انخلا

منیلا: آتش فشانی کے باعث ہر طرف راکھ بکھری ہوئی ہے‘ متاثرہ علاقوں سے شہری نقل مکانی کررہے ہیں

منیلا (انٹرنیشنل ڈیسک) فلپائن کے دارالحکومت منیلا کے قریب ایک آتش فشاں متحرک ہونے کے بعد عوام کے جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق ٹال نامی پہاڑ سے اٹھنے والی راکھ نے شہر کی ہر شے پر قبضہ جما لیا ہے۔ ملکی ماہرین ارضیات نے بتایا کہ اس پہاڑ کے پھٹنے اور اس میں سے لاوا نکلنے کے دوران خطے میں گزشتہ رات زلزلے کے تقریباً 80 جھٹکے محسوس کیے گئے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ اگر صورت حال مزید خراب ہو گئی، تو اس پہاڑ کے ارد گرد کی وادی سے تقریباً 2لاکھ تک مقامی باشندوں کو اپنے گھروں سے رخصت ہونا پڑ سکتا ہے۔ جب کہ 10ہزار افراد کو متاثرہ علاقوں سے نکال بھی لیا گیا ہے۔ اسی دوران ہر طرف اڑتی راکھ کی وجہ سے منیلا کا ہوائی اڈا بند کر دیا گیا ہے۔ شہری ہوا بازی کے ملکی ادارے کے مطابق اندرون ملک اور بیرونی ممالک کو روانہ ہونے والی 240پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ آتش فشاں سے راکھ اور لاوے کا اخراج جاری ہے۔ دھویں کے ساتھ بجلی کڑکنے کے مناظر بھی سامنے آئے۔ آتش فشانی کے باعث اسکول، دیگر تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر بھی بند کردیے گئے۔ فلپائن کے انسٹیٹیوٹ آف وولکینولوجی اینڈ سیسمولوجی (فیوولکس) کے سربراہ ریناتو سولیڈوم نے بتایا کہ جزیرہ لوزون پر تال آتش فشاں نے اتوار کے روز شدید گرم ہوا اور پتھر اگلنا شروع کیے، جس کے بعد پیر کی صبح آتش فشاں سے آگ کے شعلے نکلے، جس کے باعث حکام نے دوسرے درجے کا الرٹ جاری کر دیا، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آتش فشانی عمل جاری رہے گا یا نہیں۔ خیال رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں فلپائن میں آنے والے طاقتور زلزلوں سے 16 افراد لقمہ اجل بنے تھے۔ جب کہ حکومت کی جانب سے مزید زلزلوں کا انتباہ جاری کیا گیا تھا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں