تبدیلی آنے میں کچھ وقت لگے گا، ہم جنت میں تو جانا چاہتے ہیں لیکن مرنا نہیں چاہتے، وزیراعظم

ڈیووس: وزیراعظم عمران خان جرمن چانسلراینجلا مرکل سے غیر رسمی ملاقا ت کررہے ہیں

ڈیووس( مانیٹرنگ ڈیسک+خبرایجنسیاں)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تبدیلی آنے میں کچھ وقت لگے گا۔ان کے بقول ہم جنت میں تو جانا چاہتے ہیں لیکن مرنا نہیں چاہتے۔سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ناشتے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کو درپیش بڑے معاشی چیلنجز سے نکالنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ عمران خان نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز پر تفصیل سے بات کی۔ 47 منٹ جاری رہنے والی تقریب میں وہ خود ہی بولتے رہے، جیسے کلاس میں لیکچر دیا جا رہا ہو۔ ان کی باتوں کو غور سے سننے والے شرکا نے ان سے سوالات بھی کیے۔عمران خان نے کہا کہپاکستان آج قرضوں کی دلدل میں ہے، توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے بڑھتے جا رہے ہیں،ہمیں مشکل صورتحال اور بے پناہ تنقید کا سامنا ہے، بس اپنی چمڑی مزید موٹی کرلی ہے، وزراء اخبار پڑھیں نہ ہی ٹی وی پر ٹاک شوز دیکھیں۔ وزیر اعظم نے حکومت میں گزرے سال کو اپنی زندگی کا مشکل ترین سال قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بڑا چیلنج کرپشن ہے، فرسودہ نظام میں اصلاحات لانا آسان نہیں، ٹیومر کو کاٹے بغیر کینسر کا علاج ممکن نہیں ہے۔عمران خان نے شرکاء کو بتایا کہ سابق حکومتیں کرپشن کرتی تھیں، ملٹری ایجنسیوں کو خبر ہوتی تھی جب کہ موجودہ حکومت شفاف ترین ہے، اسی لیے فوج اور حکومت میں کوئی مسئلہ نہیں۔ انہوں نے اپوزیشن کی 2 بڑی جماعتوں مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کی بھی خوب خبر لی۔ان کے مطابق یہ ان کی سیاست میں بڑی کامیابی تھی کہ وہ 2 جماعتی نظام کا حصار توڑنے میں کامیاب ہوئے اور اپنی جماعت کو اقتدار کی مسند تک پہنچایا۔ان کا کہنا تھا کہ ان کا وژن پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے۔ جہاں ہر کوئی ترقی کرسکے، میرٹ کا ایک نظام ہو جس سے غربت کا خاتمہ کیا سکے۔وزیراعظم نے کہا کہ ملائشیا کے حکمران مہاتیر محمد نے بھی اپنے عوام کو صبر کرنے کو کہا تھا اور یہی بات وہ بھی کہتے ہیںوزیراعظمنے کہا کہ ان کی حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے احساس پروگرام کا ذکر کیا جو دیہی علاقوں کی خواتین کی بہتری کے لیے بھی لائحہ عمل دیتا ہے۔عمران خان پاکستان کے صنعتی شعبے اور بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا اور شرکا کو بتایا کہ سوئٹزرلینڈ جو ہر سال سیاحت میں 80 ہزار ڈالر کماتا ہے پاکستان سیاحت کے لیے اس سے زیادہ موزوں ہے۔ انہوں نے خاص طور پر گلگت بلتستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ علاقے یہاں سے دگنا خوبصورت ہیں۔علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان سے جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور کوکا کولا کے چیئرمین نے ملاقات کی ۔جرمن چانسلر نے غیر رسمی ملاقات کی اوروزیراعظم کودورہ جرمنی کی دعوت دی۔ چیئرمین کوکاکولا نے پاکستان میںسرمایہ کاری بڑھانے میںدلچسپی کا اظہار کیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں