؎کورونا وائرس‘مرنے والے کو فوری جلانے کا حکم، تدفین پر پابندی

ہلاک شدگان کو جلانے کے دوران سینٹر میں کسی بھی رشتے دار یا اہل خانہ کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی
مردے کی باقیات اور دستاویزات عمل مکمل ہونے کے بعد لواحقین کے حوالے کردی جائیں گی‘چینی حکام
بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک)چینی حکام نے کرونا وائرس سے مرنے والے افراد کی آخری رسومات اور تدفین پر پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر جلانے کا حکم جاری کردیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن (این ایچ سی)کی جانب سے ہفتے کو نئے ضوابط جاری کیے گئے جس میں ہدایت کی گئی ہے کہ وائرس سے متاثر ہوکر مرنے والوں کی تدفین نہ کی جائے بلکہ اْن کے جسد خاکی کو قریبی مراکز میں جلایا جائے۔چینی حکام نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ کرونا سے ہلاک ہونے والوں کی آخری رسومات ہوں گی اور نہ ہی اْن کے اہل خانہ کو کسی بھی قسم کی سرگرمی کی اجازت ہوگی۔ایچ ایچ سی ضوابط کے مطابق اگر کرونا وائرس کے مریض کی موت ہوتی ہے تو جس حد تک ممکن ہو، آخری رسومات کو محدود رکھا جائے، جس اسپتال میں مریض ہلاک ہو وہاں کا عملہ جگہ پر اسپرے کر ے اور لاش کو سیل کردے اور پھر اس کے کھولنے پر پابندی عائد کردے۔ہدایت کی گئی ہے کہ طبی عملے کی جانب سے اہل خانہ کو آگاہ کرنے کے بعد ڈیتھ سرٹیفیکٹ جاری کیا جائے گا، جس کے بعد تدفین کرنے والے اداروں سے رابطہ کیا جائے گا اور پھر وہاں سے کوئی نمائندہ آکر لاش کو لے کر مخصوص مقام پر پہنچے گا جس کے بعد جسد خاکی کو جلا دیا جائے گا۔ایچ ای سی کے مطابق مردے کو جلانے کے بعد اْس کا سرٹیفیکیٹ بھی جاری کیا جائے گا۔ ہلاک شدگان کو جلانے کے دوران سینٹر میں کسی بھی رشتے دار یا اہل خانہ کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی، مردے کی باقیات اور دستاویزات عمل مکمل ہونے کے بعد لواحقین کے حوالے کردی جائیں گی۔دوسری جانب حکومت نے ووہان کے بعد 90 لاکھ کی ا?بادی والے شہر وین ڑو کو بھی مکمل طور پر لاک ڈاؤن کردیا اور شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔یاد رہے کہ چین میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 300 سے زائد ہوگئی جبکہ اب تک 15 ہزار افراد متاثر ہوئے جبکہ یہ وائرس 24 سے زائد ممالک تک پہنچ گیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں