حفیظ شیخ اور شبر زیدی میں اختلافات برقرار‘نئے چیئرمین ایف آرکیلئے ناموں پر غور

گریڈ 22 کے افسر محمد جاوید غنی ‘ لینڈ ریونیو کے احمد مجتبیٰ میمن اورسیکرٹری امور کشمیر طارق پاشا شامل
شبرزیدی رواں ماہ کے دوران’’علاج‘‘کی غرض سے بیرون ملک روانہ ہوجائیں گے ‘ذرائع کا دعوی
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کی تعیناتی کے لیے گریڈ 22 کے افسر محمد جاوید غنی ‘ لینڈ ریونیو کے احمد مجتبیٰ میمن اورسیکرٹری امور کشمیر طارق پاشا کے ناموں پر غور کررہی ہے.معتبرذرائع کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کا عہدہ زیادہ عرصے تک خالی نہیں رکھا جائے گا اس بات کے خدشات موجود ہیں کہ موجودہ چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کی مسلسل رخصت کے باعث محصولات میں کمی ہوسکتی ہے۔آئندہ بجٹ کی تیاری اور آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لیے چیئرمین ایف بی آر کی عہدے پر تعیناتی ضروری ہے کہا جارہا ہے کہ چیئرمین نیب شبرزیدی اور مشیرخزانہ حفیظ شیخ کے درمیان اختلافات کی وجہ سے شبر زیدی طبی بنیادوں پر طویل عرصے کی رخصت پر چلے گئے تھے تاہم 21جنوری کو انہوں نے دوبارہ واپس اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں مگر مشیر خزانہ کے ساتھ ان کے معاملات طے نہیں ہوسکے جس کی بنا پر انہوں نے 3فروری سے دوبارہ غیرمعینہ مدت کے لیے رخصت کی درخواست کردی۔چیئرمین ایف بی آر 6سے 19جنوری 2020 کے دوران خراب صحت کے سبب رخصت پر تھے اور ان کی غیرموجودگی میں 22ویں گریڈ کا افسر قائمقام چیئرمین کے فرائض انجام دے رہا تھا شبرزیدی نے غیر معینہ مدت کی چھٹیوں کے لیے متعلقہ حکام کو اس کے بارے میں مطلع کر دیاتھا ذرائع کا کہنا ہے کہ شبرزیدی رواں ماہ کے دوران’’علاج‘‘کی غرض سے بیرون ملک روانہ ہوجائیں گے یہی وجہ ہے ان کی جانب سے باضابط طور پر استعفی سامنے نہ آنے کے باوجود حکومت نئے چیئرمین ایف بی آر کا تقررکرنے جارہی ہے۔خیال رہے کہ ایف بی آر مالی سال2019-20 کی پہلی ششماہی میں محصولات جمع کرنے کا ہدف حاصل نہیں کرسکا ایف بی آر نے صرف287 ارب روپے جمع کیے ہیں جبکہ ہدف 2.367 کھرب رکھا گیا تھا. باخبر ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیراعظم کے مشیربرائے مالیات ڈاکٹرحفیظ چیئرمین ایف بی آر کو کہہ چکے ہیں ناقص کارکردگی والے افسران کو گھر بھیجا جائے تاہم کسی کو کام سے روکا نہیں گیا اسے چیئرمین ایف بی آر اور مشیر خزانہ کے درمیان اختلافات کی بنیادی وجہ قراردیا جارہا ہے شبر زیدی کو یہ شکایت بھی رہی ہے کہ حفیظ شیخ ان کے معاملات میں غیرضروری مداخلت کرتے رہتے ہیں.واضح رہے کہ چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی تعیناتی کیخلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست بھی زیر سماعت ہے‘جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی عدالت میں ایف بی آر کے19ویں گریڈ کے افسرعلی محمد کی درخواست زیرسماعت ہے جس میں شبرزیدی کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔درخوست گزار نے عدالت سے استدعا کررکھی ہے کہ شبر زیدی کی تعیناتی کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر کو کام کرنے سے روکا جائے۔شبر زیدی کے ماتحت 19ویں گریڈ کے افسر نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ادارے کے مستقل افسران کے ساتھ امتیازی سلوک نہ برتا جائے اور پرائیوٹ سیکٹر سے ایف بی آر میں تعیناتیاں روکی جائیں درخواست کا موقف ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کے لیے قابل افسران کی تعیناتی پرغور کرنے کا حکم دیا جائے. یاد رہے کہ موجودہ حکومت نے اپنی معاشی ٹیم میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے شبرزیدی کو چیئرمین ایف بی آر تعینات کیا تھا‘شبر زیدی ٹیکسیشن کے ماہر اور چارٹرڈ اکا?نٹنٹ ہیں اور 2013 کے انتخابات سے قبل بننے والی سندھ کی عبوری حکومت میں وزیر بھی رہے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں