چیئرمین سینیٹ بھی ایم کیو ایم اور حکومت کی دوریاں ختم کرانے میں ناکام

متحدہ کو وفاقی کابینہ میں واپسی پر راضی نہ کرسکے، ایم کیو ایم مطالبات پر حکومتی کمیٹی میں کام کررہی ہے، جلد معاملات حل ہونگے، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی یقین دہانی
ہماری کمیٹی تو شروع سے ایک ہی ہے البتہ حکومتی کمیٹی کئی بار تبدیل ہوچکی ہے، مطالبات تسلیم کئے جانے کے بعد ہی وفاقی کابینہ کا حصہ بن سکتے ہیں، خالد مقبول کا شکوہ
کراچی (اسٹاف رپورٹر) چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی بھی متحدہ کو وفاقی کابینہ میں واپسی پر راضی نہ کر سکے، صادق سنجرانی نے متحدہ کو یقین دہائی کرائی ہے کہ متحدہ کے مطالبات پر حکومتی کمیٹی کام کر رہی ہے جلد معاملات حل ہوں گے، تاہم متحدہ نے شکوہ کیا ہے کہ ہماری کمیٹی تو شروع سے ایک ہی ہے البتہ حکومتی کمیٹی کئی بار تبدیل ہو چکی ہے۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی بھی متحدہ اور وفاقی حکومت میں دوریاں ختم کرانے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ متحدہ نے کہا ہے کہ مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد ہی وفاقی کابینہ کا حصہ بن سکتے ہیں۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ایم کیو ایم کے مرکز بہادر آباد جاکر خالد مقبول صدیقی، عامر خان، فیصل سبزواری اوردیگر متحدہ رہنمائوں سے ملاقات کی، چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ آپ کی کابینہ سے علیحدگی کی خبر سے افسوس ہوا چھوٹے مسائل کو بالائے طاق رکھیں اور پاکستان کی بہتری کے لیے کام کریں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومتی کمیٹی آپ کے مطالبات کی روشنی میں کام کر رہی ہے جلد سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اس پر متحدہ رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہاکہ متحدہ مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے عوامی مسائل کے حل کے لیے حکومت سے اتحاد کیا ہے۔ رابطہ کرنے پر کنور نوید جمیل کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ مذاکرات کے لیے نہیں آئے تھے اس لیے تفصیلی بات چیت نہیں ہوئی۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ پر بات ہو سکتی ہے لیکن اس کے لیے سندھ حکومت کو عملی اقدامات کرنے ہوں گے تاہم متحدہ کے کسی بھی فورم پر بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے حکومت کا حصہ بننے کی پیکش زیر غور نہیں ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں