بڈگام، تحریک المجاہدین کے سابق سربراہ کو مسجد میں قتل کر دیا گیا

سرینگر ،13فروری )ساوتھ ایشین وائر(

ممتاز اہل حدیث عالم اور بیروہ بڈگام کے تحریک المجاہدین کے سابق سربراہ عبدالغنی ڈار کو میسومہ سری نگر کی ایک مسجد میں قتل کر دیا گیا۔
ساوتھ ایشین وائر کو ملنے والی اطلاع کے مطابق سرینگر کے علاقے گاوکدل کی مسجد میں ایک شخص کی لاش پراسرار حالت میں پائی گئی۔ جس کی شناخت ضلع بڈگام کے تراگزو علاقے کے رہنے والے عبدالغنی ڈار کے طور پر ہوئی۔ان کی عمر 78برس تھی۔وہ ایک مشہور اہلحدیث عالم تھے اور تحریک المجاہدین کے بانی ممبروں میں سے ایک تھے۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سرینگر میں نماز ظہر کے بعد اس وقت افرا تفری کا ماحول پھیل گیاجب مرکزی اہلحدیث مسجد کی دوسری منزل پر جمعیت اہلحدیت کے معروف کارکن اور تحریک المجاہدین کے سابق چیف کی نعش بر آمد ہوئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ کچھ نمازیوں نے جامع مسجد میں 78سالہ بزرگ کی خون میں لت پت نعش دیکھی جس کے بعد انہوں نے پولیس کو مطلع کیا ۔
عینی شاہدین کے مطابق جامع مسجد میں نعش کی خبر پھیلتے ہی مقامی لوگوں کی بڑی تعداد جامع مسجد میں پہنچ گئی جس کے بعد پولیس کی ایک ٹیم بھی وہاں پہنچی ۔
پولیس نے نعش کو اپنی تحویل میں لیا جس کے بعد جیب سے ایک شناختی کارڈ ملا۔
بتایا جاتا ہے کہ نعش کے سر پر گہرے چوٹ تھے جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ نعش کو اپنی تحویل میں لینے کے بعد پولیس نے مسجد کے اند ر نصب سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج حاصل کرکے سنسنی خیز قتل کے اس معاملے میں ملوث افراد کی نشاندہی کرنے کیلئے کارروائی شروع کی ہے ۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ایس ایس پی ، سری نگر ، حسیب مغل نے کہا کہ کیس درج کرلیا گیا ہے اور تفتیش شروع کردی گئی ہے ۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ ہم تمام شواہد اکٹھا کررہے ہیں۔
پولیس نے جائے وقوعہ کی فوٹو گرافی اور ویڈیو ریکارڈنگ کے علاوہ ایف ایس ایل کی ٹیم کے ممبروں کو بھی جائے وقوعہ کی جانچ پڑتال کے لئے موقع پر طلب کیا ۔پولیس کو قاتل کے طور پر ایک اور مولوی پر شبہ ہے۔
ڈارپر جمعیت اہل حدیث کے سربراہ مولانا شوکت کے قتل کا الزام تھا جس میں انہیں2015 میں ضمانت ملی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ ان کی موت کی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں