صوبے میں انسانی حقوق کے16قوانین نافذ کیے ،وزیر اعلیٰ سندھ

گھریلو ملازمین سے لے کر اسٹریٹ چلڈرن تک ا نسانی حقوق کے اصولوں پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے
مراد علی شاہ سے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ کی زیرقیادت انسانی حقوق کے رکھوالوں کے وفد کی گفتگو
کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کے اصولوں پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے ، گھریلو ملازمین سے لے کر اسٹریٹ چلڈرن تک، معاشرتی ورکرز سے لے کر کسانوں تک اور یہاں تک کہ خواتین کو بھی بااختیار بنایا ہے اب ہماری توجہ معاشرے میں ان قوانین کے عملدرآمد پر دی جارہی ہے جن کامناسب طریقے سے نفاذ نہیں ہوا ہے۔ یہ بات انہوں نے انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ کے زیرقیادت انسانی حقوق کے رکھوالوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ان کے ساتھ ڈائریکٹر نارویجن ہیومن رائٹس فنڈ (ایچ آر ایف)سینڈرا پیٹرسن، پروجیکٹ کوآرڈینیٹر نارویجن ایچ آر ایف مسٹر اسکاٹ میلسکی سینڈوک، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پائلر کرامت علی، ہانرایبل ایلڈرمین مشتاق لاشاری، پائلر کے ذوالفقار شاہ، انیس ہارون، علی پلھ، ٹریڈ یونین فیڈریشن کے ناصر منصور، سیفٹی کمیشن کے نغمہ اقدرار اور ناظم حاجی موجود تھے۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد انسانی حقوق سے متعلق 16 قوانین نافذ کیے ہیں۔ عوام الناس میں شعور اجاگر کرکیانسانی حقوق سے متعلق بنیادی معلومات دی گئی ہیں۔ انسانی حقوق سے متعلق شکایتی ٹول فری نمبر 080000011قائم کیا گیا ہے جہاں تمام شکایات درج کرائی جاسکتی ہیں۔ تیسرا لیگل ایڈ ہے۔ پانچ اضلاع میں ہیومن رائٹس افسر جبکہ دیگر اضلاع میں ضلعی کوآرڈینیٹر تعینات ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں