وفاقی حکومت گیس صارفین سے وصول 2 کھرب 95 ارب روپے ہڑپ کرگئی

رقم حاصل کرنے کے مقصد کے بجائے خاموشی سے عام ریونیو میں تبدیل کرکے بہت تھوڑی رقم گیس منصوبوں پر خرچ کی جارہی ہے
تاپی پائپ لائن منصوبے پر صرف 4 کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ کئے جارے ہیں، سی این جی اسٹیشنز کے نمائندے مخدوم علی خان کا انکشاف
اسلام آباد (آن لائن) عدالت عظمیٰ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت گیس صارفین سے وصول کردہ 2 کھرب 95 ارب روپے ہڑپ کرگئی۔ عدالت عظمیٰ کراچی رجسٹری سے وڈیو لنک کے ذریعے بات کرتے ہوئے سی این جی اسٹیشنز کے نمائندہ مخدوم علی خان نے بتایا کہ حکومت نے مذکورہ رقم کو حاصل کرنے کے مقصد کے بجائے خاموشی سے عام ریونیو میں تبدیل کر چکی ہے اور بہت تھوڑی رقم گیس منصوبوں پر خرچ کیے جارہے ہیں۔ جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کے سامنے وفاقی حکومت کی گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس ایکٹ 2015ء سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران موقف پیش کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 2کھرب 95 ارب روپے میں سے صرف 48 کروڑ 70 لاکھ روپے ترکمانستان افغانستان پاکستان بھارت (تاپی) پائپ لائن منصوبے پر خرچ کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کی رقم سیس کو آئی پی، تاپی، ایل این جی کے انفرااسٹرکچر کی تعمیر سمیت دیگر منصوبوں پر خرچ کرنا تھا تاہم اس کا مقصد ختم کر دیا گیا اور اب تک حکومت ایل پی جی کے منصوبوں پر خاموش ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں