الجزائر میں فرانسیسی ایٹمی دھماکے کی تابکاری آج تک برقرار

الجزائر سٹی (انٹرنیشنل ڈیسک) الجزائر کے صحرائے صحارا میں 60 برس قبل فرانس نے اپنا پہلا جوہری تجربہ کیا تھا، جس کے بعد مزید تجربات بھی کیے گئے تھے، جن سے پیدا ہونے والے مسائل کا سامنا قریبی انسانی بستیوں کے مکین آج بھی کر رہے ہیں۔ جرمن خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پہلے جوہری تجربے کو دیکھنے کے لیے فوجیوں کے ہجوم کے ساتھ اعلیٰ حکام بھی موجود تھے، جن میں ژاں کلاڈ ایرویو بھی موجود تھے، جو ایٹمی تجربے کے مقام پر مختلف آلات کو بجلی فراہم کرنے والے الیکٹریشن کے طور پر ملازمت کر رہے تھے۔ یہ تجربہ الجزائر اور موریطانیہ کی سرحد کے قریب ایک صحرائی مقام پر کیا گیا تھا۔ ژاں کلاڈ ایرویو کا کہنا ہے کہ جب 1966ء میں الجزائر کے صحرائی علاقے کو خالی کیا گیا، تب کچھ بڑے گڑھے کھود کر ان میں جوہری تجربات کی جگہ سے لایا گیا سارا سامان دفن کر دیا گیا تھا، اور متاثرہ مقامات پر بے تحاشا تابکاری اثرات دیکھنے میں آئے۔ الجزائر میں فرانسیسی جوہری تجربات کے مقامات پر ابھی تک تابکاری اثرات پائے جاتے ہیں۔ فرانسیسی ماہر طبیعیات رولاں دے بورد کا کہنا ہے کہ جوہری تجربات کے مقامات سے آج بھی تابکاری مواد نکل رہا ہے اور یہاں کا رخ کرنے والوں کو بے پناہ تھکن کے علاوہ صحت کے کئی دیگر عجیب و غریب مسائل کا سامنا بھی رہتا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں