ترکی نے کمانڈوز ادلب بھیج دیئے ،روس ناراض

انقرہ/ ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں حالیہ کشیدگی ترکی اور روس کے درمیان بڑے بحران کا سبب بن گئی ہے۔ ایک طرف روس کی حلیف اسدی فوج صوبے کے مختلف علاقوں میں ترکی کے حمایت یافتہ مزاحمت کاروں کے علاقوں کی جانب پیش قدمی کررہی ہے، تو دوسری طرف تُرک فوج اسے روکنے کے لیے کوشاں ہے۔ اسی تناظر میں تُرک فوج نے ادلب میں اپنی چوکیوں کی حفاظت کے لیے کمانڈوز بھیج دیے ہیں۔ یہ تُرک کمانڈوز ضلع ہاتائے کے سرحدی قصبے ریحانیہ کے راستے ادلب میں داخل ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی تُرک فوج نے شامی سرحد پر میزائل بھی نصب کر دیے ہیں۔ اس کشیدگی نے ترکی اور روس کے درمیان تنائو پیدا کررکھا ہے۔ تُرک صدر رجب طیب اردوان نے روس پر شام میں جرائم کے ارتکاب کا الزام عائد کیا ہے۔ جب کہ روس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انقرہ پر ادلب میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا ہے۔ روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ انقرہ نے شام سے عسکریت پسندوں کو باہر نکالنے کے حوالے سے اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کی ہیں۔روسی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ انقرہ نے ادلب میں معاہدے کی شرائط پر عمل نہیں کیا۔ادلب کے بحران کے پیچھے ترکی کا ہاتھ ہے۔ تاہم تُرک وزیر دفاع خلوصی اکار نے کہا ہے کہ ادلب میں جنگ بندی کے قیام اور اسے پائیدار بنانے کے لیے اضافی دستوں کی مدد سے علاقے کو کنٹرول کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات برسلز میں نیٹو وزرائے دفاع کے اجلاس کے موقع پر کہی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں