لیبیا ،جنگ بندی کی کوشش ناکام دوبارہ لڑائی چھڑگئی

طرابلس (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے لیبیا میں بلا مشروط فوری جنگ بندی کے لیے پیش کردہ قرارداد منظور کر لی۔سلامتی کونسل نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ لیبیا میں بلا مشروط جنگ بندی طریفین کے درمیان اسلحہ کی ترسیل اور اس کے استعمال پر عالمی پابندی کی پاسداری سمیت تمام اجرتی جنگجوؤں کی واپسی سمیت بیرونی مداخلت ختم کی جائے۔ برطانیہ کی طرف سے پیش کردہ اس قرارداد کو14 ممالک کی حمایت ملی، جب کہ روس غیر حاضر رہا۔ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے لیبیا میں جنگ بندی کی نگرانی سے متعلق رکن ممالک کو ایک تجویزاتی رپورٹ تیار کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ دوسری جانب سلامتی کونسل میں قرارداد کی منظوری کے چند گھنٹوں بعد ہی جمعرات کے روز لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں وزیراعظم فائر سراج کے زیر قیادت اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ متحدہ قومی حکومت اور باغی ملیشیا کمانڈر خلیفہ حفتر کے دستوں کے درمیان لڑائی شروع ہوگئی۔ متحارب فریقین کے درمیان دارالحکومت کے جنوب میں ان تازہ جھڑپوں کے دوران طرابلس کے واحد فعال ہوائی اڈے معیتیقہ پر راکٹ مارے گئے، جس کے بعد وہاں سے پروازوں کی آمد ورفت معطل کردی گئی ہے۔ طرابلس کے مرکز سے تقریباً 30 کلومیٹر جنوب میں واقع زرعی علاقے مشروع الحضبہ میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ کچھ راکٹ رہایشی علاقوں میں بھی گرے، جس سے کئی افراد زخمی ہوگئے۔ متحارب فریقین کے درمیان گزشتہ ماہ جنگ بندی کا ایک عارضی سمجھوتا طے پایا تھا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں