شامی مزاحمت کاروں نے دوسرا ہیلی کاپٹر مار گرایا

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام کے شمالی صوبے حلب میں اسدی فوج کا ہیلی کاپٹر مار گرایا گیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق اس واقعے میں ہیلی کاپٹر کا پائلٹ اور اس کا معاون ہلاک ہوگئے۔ مزاحمت کاروں نے ہیلی کاپٹر کو مارگرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ چند روز میں مارگرایا جانے والا دوسرا اسدی ہیلی کاپٹرہے۔ فوجی ہیلی کاپٹر کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ ہیلی کاپٹر حلب کے مغربی دیہی علاقے عنجار میں گر کر تباہ ہوا۔ اسدی فوج کی جانب سے اس حوالے سے اب تک کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔ دوسری جانب شامی مبصر برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہجمعرات کے روز حلب کے دیہی علاقے میں اسدی اور تُرک افواج کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ ہوا۔ اس دوران تُرک فوج نے حلب کے مغرب میں واقع دیہات میزناز اور الشیخ علی میں اسدی فوج کے ٹھکانوں اور تعیناتی کے مقامات کو نشانہ بنایا، جب کہ اسدی فوج نے الفوج 46 کے اطراف اور حلب کے دیہی علاقے میں تُرک فوج کی تعیناتی کے مقامات پر گولہ باری کی۔ حلب اور ادلب کے دیہی علاقوں میں وقتاً فوقتاً فریقین کی ایک دوسرے پر میزائل باری جا ری ہے۔ جب کہ روسی فوج کے لڑاکا طیاروں نے بھی کئی فضائی حملے کیے، جن میں حلب کے مغربی دیہی علاقے میں کفرناہا قصبے کے اطراف کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ادھر جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے صوبہ ادلب میں فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو اس بحران کا کثیرجہتی حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ ہائیکو ماس نے کہا ہے کہ ادلب میں جاری حملوں کا خاتمہ بہت ضروری ہے۔ ایک جرمن اخبار کے ساتھ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اس بحران کا سیاسی حل تلاش کیا جا نا چاہیے۔ ہائیکو ماس نے کہا کہ وہاں سے آنے والی تصویروں سے ان میں غصے اور مایوسی کے جذبات بیدارہوئے ہیں۔

ادلب: پُرتشدد کارروائیوں کے باعث ہر طرف نقل مکانی کرنے والوں کے قافلے نظر آرہے ہیں‘ بچے سخت سردی میں ناکافی ضروریات کے ساتھ پناہ گزیں ہیں

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں