کورونا چھپانے پر موت کی سزا دی جاسکتی ہے،چینی عدالت

بیجنگ/ قاہرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ایک چینی عدالت نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ دانستہ طور پر کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کو چھپانا ایک فوجداری جرم ہے اور ایسا کرنے پر موت کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ عدالت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بیماری کو چھپانے سے ہر قیمت پر اجتناب کریں۔ ایک اخبار کے مطابق ایسا کرنے کی معمول کی سزا 10برس ہے، لیکن انتہائی صورت میں عمر قید یا سزائے موت بھی سنائی جا سکتی ہے۔ چین میں اس وائرس کی وبا سے ہزاروں افراد بیمار ہیں۔ چین کے قومی صحت کمیشن نے ہفتے کے روز بتایا کہ ملک بھر میں کورونا وائرس کے مزید 2641 سے زائد کیس رپورٹ ہوئے ہیں، جب کہ اس وائرس کے شکار مزید 143 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ یوں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1523 ہو گئی ہے۔ چین بھر میں اب تک کورونا وائرس کے 66 ہزار 492 مجموعی کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔ چین سے شروع ہونے یہ والا جان لیوا وائرس براعظم افریقا کے ملک مصر تک پہنچ گیا ہے۔ مصری وزارت صحت نے ملک میں ایک شخص میں کورونا وائرس کی تصدیق کردی ہے جو غیر ملکی شہری ہے۔ مریض کو اسپتال میں قرنطینہ یعنی تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ جب کہ یورپ میں بھی کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت ہوئی ہے۔ فرانسیسی وزارتِ صحت کے مطابق کورونا وائرس کے مریض ایک چینی سیاح اسپتال میں علاج کے دوران دم توڑ گیا۔ اب تک 2 درجن سے زائد ممالک میں کورونا وائرس کے متاثرہ مریض سامنے آچکے ہیں، جن میں چین، جاپان، سنگاپور، ہانگ کانگ، تھائی لینڈ، جنوبی کوریا، ملائیشیا، تائیوان، ویتنام، جرمنی، امریکا، آسٹریلیا، فرانس، مکاؤ، برطانیہ، متحدہ عرب امارات، کینیڈا، فلپائن، اٹلی، بھارت، اسپین، روس، نیپال، فن لینڈ، سوئیڈن، سری لنکا، کمبوڈیا اور بلجیم شامل ہیں۔ یہ وائرس گزشتہ برس دسمبر میں چین کے شہر ووہان سے پھیلنا شروع ہوا تھا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں