مصر: بم دھماکوں کے الزام میں 8 افراد کو پھانسی

قاہرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) مصر نے دہشت گرد تنظیم داعش کی جانب سے گرجا گھروں اور پولیس چوکی میں کیے گئے بم دھماکوں کے الزام میں 8 افراد کو پھانسی دے دی۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ملزمان نے سزائے موت کے خلاف اپیل کی تھی تاہم گزشتہ برس مئی میں آخری اپیل بھی مسترد کردی گئی تھی۔ عدالتی ذرائع نے بتایا کہ اکتوبر 2018ء میں فوجی عدالت نے اسکندریہ، قاہدرہ اور تانتا میں گرجا گھروں کے ساتھ جنوب مغربی مصر میں پولیس چوکی پر حملوں میں ملوث 17 افراد کو سزائے موت کا فیصلہ سنایا تھا۔ دیگر 9 افراد کے خلاف ان کی غیر موجودگی میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے اور وہ مفرور ہیں۔ 2016ء اور 2017ء میں کیے گئے ان حملوں میں اکثر عیسائی برداری کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں کم از کم 88 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ سابق صدر محمد مرسی کی حکومت کو ختم کر کے 2014ء میں اقتدار میں آنے والے سابق فوجی سربراہ عبدالفتاح السیسی کے دور میں ماضی کے برعکس سزائے موت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سزائے موت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان افراد کو غیر منصفانہ فوجی ٹرائل کے بعد سزائے موت دی گئی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں