مغربی کنارے میں یہودکیلئے 3500 نئے مکان

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے مقبوضہ مغربی کنارے میں مزید یہودی آباد کاری کا اعلان کیا ہے۔ نیتن یاہو نے ’’ای ون‘‘ نامی حصے میں ساڑھے 3 ہزار نئے مکانات کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ اسرائیل میں ایک ہفتے بعد انتخابات ہونے والے ہیں، جن میں مرکزی امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔ بین الاقوامی برادری ایک عرصے سے خبردار کرتی آئی ہے کہ ای ون راہداری سے یہ علاقہ 2حصوں میں تقسیم ہو جائے گا، جس سے مستقبل کی فلسطینی ریاست کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ دوسری جانب بنیامین نیتن یاہو نے مغربی کنارے میں قائم 12 کالونیوں کو مقامی بجلی لائن کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ عبرانی ٹی وی چینل 2 کے مطابق غرب اردن کی مزید یہودی کالونیوں کو جلد ہی مقامی بجلی کمپنی کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب حال ہی میں امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے لیے ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس میں انہوں نے غرب اردن میں بنائی گئی یہودی کالونیوں کو اسرائیل کاحصہ قرار دیا گیا ہے۔ ادھر مغربی کنارے اور بیت المقدس میں اسرائیلی فوج نے گھر گھر تلاشی کی کارروائیوں میں 26 فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا، جن میں سابق اسیر، بچے اور ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ مقامی فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ غب ارب اردن سے اسرائیلی فوج نے 11 فلسطینیوں کو حراست میں لیا، جب کہ شمال مشرقی بیت المقدس کے نواحی علاقے عیساویہ سے 15 فلسطینیوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ گرفتاری کے بعد فلسطینیوں کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقامات پر منتقل کردیا گیا۔ شمالی شہر جنین سے قباطیہ کے مقام پر فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیلی فوج پر فائرنگ کی۔ اسرائیلی فوج نے بیت لحم اور جنین سے 3 سابق فلسطینی اسیران کو حراست میں لینے کے بعد جیل میں ڈال دیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں