٭ سالانہ 4 لاکھ ہلاکتیں ٭ پاکستان میں ساڑھے 4 کروڑ افراد موٹاپے کا شکار

ملک میں ایک کروڑ 40 لاکھ کے قریب بچے بھی اس مرض میں مبتلا ہیں
موٹاپے سے لاحق بیماریوں کے سبب معذور افراد کی تعداد بڑھتی جارہی ہے
اوسط عمر بھی 5 سے 10 سال کم ہو رہی ہے جبکہ موٹاپا قابل علاج ہے
حکومتی اور نجی اداروں کو مل کر اس وباء کیخلاف کام کرنے کی ضرورت ہے
کراچی پریس کلب میں سیمینار سے ڈاکٹر تنویر و دیگر ماہرین صحت کا خطاب
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ماہرین صحت نے کہا ہے کہ پاکستان میں ساڑھے 4کروڑ افراد موٹاپے کا شکار ہیں جبکہ ایک کروڑ 40لاکھ کے قریب بچے موٹاپے کے مرض میں مبتلا ہیں ہر سال 40لاکھ افراد موٹاپے اور اس سے لاحق بیماریوں کے نتیجے میں ہلاک ہوچکے ہیں موٹاپے سے لاحق بیماریوں کے سبب پاکستان میں معذور افراد کی تعداد بڑھتی جارہی ہے جبکہ اوسط عمر بھی 5سے 10سال کم ہو رہی ہے، عوام سمیت اسکول جانے والے بچوں میں موٹاپے سے بچائو کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے، موٹاپے کی وجہ سے لاحق بیماریوں کے سبب پاکستان میں معذور افراد کی تعداد بڑھتی جارہی ہے جبکہ اوسط عمر بھی 5سے 10سال کم ہو رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کلب میں موٹاپے کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب میں کیا سابق پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر ، کپتان یونس خان، سرجن ڈاکٹر تنویر راضی احمد، پاکستان سائیکاٹرک سوسائٹی کے صدر پروفیسر اقبال آفریدی، پاکستان نیو ٹریشن اینڈ ڈومیسٹک سوسائٹی کی صدر فائزہ خان اور وائس پریزیڈنٹ رابعہ انور نے بھی کانفرنس میں شرکت کی ، ڈاکٹر تنویر راضی احمد نے کہا کہ پاکستان میں ساڑھے 4 کروڑ افراد بشمول ڈیڑھ کروڑ بچے موٹاپے کا شکار ہیں جس کے نتیجے میں ہونے والی بیماریوں سے پاکستان میں معذور افراد کی تعداد بڑھتی جارہی ہے، لوگوں کو آگاہی دینے کی ضرورت ہے کہ موٹاپا قابل علاج بیماری ہے لیکن اس کے نتیجے میں ہونے والی دیگر بیماریوں سے پاکستان میں ہر سال 40لاکھ لوگ مر جاتے ہیں موٹاپے سے بچائو کیلئے نوجوانوں اور بچوں میں آگاہی پیدا کی جائے تاکہ وہ آنے والی بیماریوں میں آگاہی پیدا کی جائے تاکہ وہ آنے والی بیماریوں اور معذوری سے محفوظ رہ سکیں ، حکومتی اور نجی اداروں کو مل کر اس وبا کے خلاف کام کرنے کی ضرورت ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں