قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کی توہین آمیز کتابوں کو ضبط کرنے کی سفارش

اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے بین الاقوامی سطح پر نبی پاک ﷺ اور صحابہ کرام سے متعلق توہین آمیزکتابوں کی اشاعت کی شدید مذمت کرتے ہوئے وفاقی حکومت سمیت چاروں صوبائی حکومتوں کو توہین آمیز کتابوں کو ضبط کرنے اور ان کو درآمد کرنے والے کتب فروشوں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے ،کمیٹی نے جبری مذہب کی تبدیلی سے متعلق بل کو اسلامی نظریاتی
کونسل کی سفارشات کے بعد مسترد کردیا ہے ،کمیٹی نے حج فارم سے ختم نبوت سے متعلق شق کو ابتدائی فارم سے نکالنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔کمیٹی کا اجلاس چیئرمین مولانا اسد محمود کی سربراہی میں وزارت مذہبی امور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اقلیتی رکن اسمبلی رمیشن کمار نے کمیٹی کو بتایا کہ جبری مذہب کی تبدیلی سے متعلق ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے لہٰذا اس سلسلے میں جو بل کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا ہے اس پر بحث موخر کی جائے۔ چیئرمین کمیٹی نے ارکان کی رائے طلب کرنے کے بعد بل پر بحث پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات تک موخر کردی ۔اجلاس میں سیکرٹری کمیٹی نے بتایاکہ رکن اسمبلی عامر نوید جیوا کی جانب سے جبری مذہب کی تبدیلی سے متعلق بھی ایک بل پیش کیا گیا تھا جسے اسلامی نظریاتی کونسل بھیجا گیا اس کی سفارشات آگئی ہیں جس میں اس بل کی مخالفت کی گئی ہے لہٰذا اس بل کو مسترد کیا جاتا ہے۔ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر ہائوسنگ چودھری طارق بشیر چیمہ سمیت مسلم لیگ (ن )کے سردار ایاز صادق ،جے یوآئی کے مولانا عبدالواسع اور پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر کی جانب سے توہین رسالت اور توہین صحابہ کرام و اہل بیت سے متعلق متفقہ طو رپر منظور کی جانے والی قراداد پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہاکہ وفاقی دارلحکومت سمیت ملک بھر میںغیر ملکی پبلشرز کی جانب سے نبی پاک ﷺ اور صحابہ کرام و اہل بیت کے بارے میں توہین آمیز کتابیں فروخت کی جارہی ہیں جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے ،ایسی کتابوں کو ضبط کرنے اور ان کے درآمدکنندگان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں