پر تشدد کارروائیوں میں حالیہ اضافہ افغان امن کیلئے دھچکا، ماہرین کا انتباہ

اس ہفتے افغانستان میں غیر فوجی اہداف کے خلاف تشدد کے جاری سلسلے نے امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکہ کیلئے پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی سمیت، چند ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ کابل میں زچہ بچہ وارڈ سمیت دیگر بے رحمانہ حملوں نے امن عمل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

بارہ مئی کو کابل میں دشتِ برچی زچہ بچہ وارڈ پر مسلح افراد کے حملے میں کم از کم 24 ہلاکتیں واقع ہوئیں، جن میں سولہ مائیں شامل تھیں۔ اس غیر معمولی حملے نے دہشت پھیلا دی۔ ردِ عمل میں، افغان حکومت نے اس حملے کا انتقام لینے کا اعادہ کرتے ہوئے دفاع کی پالیسی ترک کرکے جارحانہ انداز اختیار کرنے کا حکم دیا۔

زچہ بچہ وارڈ پر حملے کے بعد، ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے فوری طور پر تشدد میں کمی لانے کا اعادہ اور حکومت کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے سے امن معاہدے کو تقویت مل سکتی ہے۔

قیدیوں کا تبادلہ

گزشتہ ہفتے افغان حکومت نے طالبان کی جانب سے امن معاہدے کا احترام نہ کرنے پر طالبان قیدیوں کی رہائی روک دی تھی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ طالبان نے اب تک 171 افغان رہا کئے ہیں، جن میں ایک سو پانچ فوجی ہیں۔ اس کے عوض حکومت نے ایک ہزار طالبان قیدی رہا کئے ہیں۔

امریکہ کیلئے پاکستان کے سابق سفیر اور ان دنوں امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں قائم ہڈسن انسٹی ٹیوٹ میں جنوبی اور وسط ایشیائی امور کے ڈائریکٹر حسین حقانی نے کہا ہے کہ طالبان افغانستان میں تشدد کو ایک حربے کے طور پر استعمال کرنے سے پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں ہیں، کیونکہ ان کی نظر میں افغانستان میں عدم استحکام ان کے سیاسی اہداف کے حصول کی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے۔

حسین حقانی نے کہا کہ طالبان نے ابھی تک لڑائی بند نہیں کی، اس لئے ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ طالبان کا انداز ”مطلق العنان طرز کی سوچ” پر مبنی ہے، جو ایک ایسے افغانستان کے نظریے سے بلکل الٹ ہے جہاں تک سب کی شمولیت کا نصب العین کا تعلق ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ کیا طالبان یہ تسلیم کرتے ہیں کہ افغانستان میں مختلف الخیالی پر مبنی سوچیں کارفرما ہیں، اور یہ کہ اسلام کے مختلف مکاتب فکر ہیں ان کی پیروی سے لوگوں کو نہیں روکا جا سکتا۔ اس لئے، کوئی بھی لوگوں کی سوچ محدود نہیں رکھ سکتا۔ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ایسا کر سکتا ہے، چونکہ لوگ مختلف سوچ کے مالک ہوتے ہیں۔

حسین حقانی نے کہا کہ طالبان، امریکہ کے ساتھ امن معاہدے کو جنگ میں اپنی فتح تصور کرتے ہیں، جس سے انہیں افغانستان میں من پسند کارروائیاں کرنے کی آزادی میسر ہو۔ انھوں نے کہا کہ طالبان عسکریت پسندوں کے نزدیک یہ سن انیس ترانوے اور چورانوے والی صورتحال ہے، جب انہیں فاتح کے طور پر دیکھا جاتا تھا، اور انھیں گمان تھا کہ وہ افغانستان کو متحد رکھنے کی ایک واحد قوت ہیں۔

امریکی دارالحکومت ہی میں قائم یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں افغانستان اور سینٹرل ایشیا پروگرام کے ڈائریکٹر، سکاٹ وارڈن نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ میٹرنٹی وارڈ پر حملےکا مطلب یہ ہے کہ افغان حکومت کو مشکل فیصلے کرنے ہونگے۔ ان میں ایسے ظالمانہ حملوں کے دوران ایک باغی گروپ کو چند مراعات دینا ہوں گی۔

سکاٹ نے کہا کہ میٹرنٹی وارڈ پر حملہ داعش کے حملوں سے مشابہت رکھتا ہے۔ تاہم، یہ بھی درست ہے کہ طالبان بغاوت داعش جیسے گروپوں کو کارروائیاں کرنے کا موقع اور گنجائش پیدا کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان کو یہ یقین دہانی فراہم کرنا ہوگی کہ وہ تشدد میں کمی لائیں گے، تاکہ ایک ایسی فضا پیدا ہو سکے، جو بات چیت کیلئے سازگار ہو۔

طالبان نے زچہ بچہ وارڈ پر حملے سے انکار کیا ہے۔ امریکہ نے اس حملے کا ذمہ دار داعش کو قرار دیا ہے۔ داعش اس حملے کے حوالے سے خاموش ہے۔ تاہم، انہوں نے ننگرہار صوبے میں ایک جنازے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس حملے میں پچیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی موقف سے قطع نظر، افغان حکام کا اصرار ہے کہ کسی نہ کسی لحاظ سے طالبان اس حملے میں ملوث ہیں۔

حقانی نیٹ ورک

پیر کے روز ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، افغانستان کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ، احمد ضیا سراج نے بتایا کہ انہیں حاصل ہونے والی خفیہ معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان کا ایک دھڑا حقانی نیٹ ورک بھی اس حملے میں ملوث تھا۔

حملے کے فوری بعد یہ واضح ہو گیا تھا کہ حملے کے بعد رونما ہونے والے واقعات سے صورتحال میں مزید شدت پیدا ہو گی۔ صدر اشرف غنی نے افغان افواج کو حکم دیا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف حملوں کا دوبارہ آغاز کریں۔ اس کے رد عمل میں طالبان نے ملک بھر میں افغان افواج کےخلاف حملے تیز کر دئے ہیں۔

یونیورسٹی آف نیبراسکا میں سینٹر آف افغان سٹڈیز کے ڈائریکٹر، شیر جان احمد زئی نے کہا ہے کہ اگر کابل کے ہسپتال پر حملہ کرنے والی داعش ہی تھی، تب بھی افغانوں کی اکثریت ملک میں پھیلی بے چینی کا قصور وار طالبان ہی کو گردانتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ایسے مزید حملے ہوئے تو طالبان قیادت کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔

اقوام متحدہ نے حالیہ ہفتوں میں افغانستان میں بڑھتے ہوئے تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ افغانستان کیلئے اقوام متحدہ کے امدادی مشن کا کہنا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ طے پا جانے کے باوجود، گزشتہ چھہ ہفتوں کے دوران، طالبان اور افغان افواج کے ہاتھوں کم از کم چار سو تیس عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

امن معاہدے کو ٹوٹنے سے بچانے کیلئے، افغانستان کیلئے امریکہ کے خصوصی ایلچی، زلمے خلیل زاد نے دونوں فریق پر زور دیا ہے کہ وہ کسی جھانسے میں نہ آئیں؛ داعش جیسے دہشت گرد گروپ کو ختم کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کریں۔

دوحہ میں سینئر طالبان قیادت سے، بقول خلیل زاد ”ایک تعمیری ملاقات کے بعد”، بدھ کے روز انہوں نے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی تصدیق کی۔ خلیل زاد کا کہنا تھا کہ انہوں نے دونوں فریقین سے ملاقاتوں میں مستقل جنگ بندی اور امریکہ طالبان معاہدے کے نفاذ کیلئے تشدد میں کمی پر زور دیا ہے۔

دوسری جانب طالبان رہنما، مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ نےبدھ کے روز اپنے بیان میں کہا ہے کہ طالبان امن معاہدے کا پوری طرح سے احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ اس اہم موقع کو ضائع نہ ہونے دیں۔

طالبان بمقابلہ داعش

ماضی میں امریکی عہدیدار بارہا کہہ چکے ہیں کہ طالبان اور داعش ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں، اور یہ کہ داعش کو شکست دینے کیلئے طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ ملکر کام کرنا چاہئے۔

حالانکہ دونوں گروپوں کے درمیان دشمنی کی تاریخ طویل ہے۔ لیکن، ماہرین کا یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں داعش کے قدم اکھاڑنے کیلئے طالبان پر اعتماد کرنا غلطی ہو گی۔

صوفان سینٹر سے وابستہ سینئر فیلو، کولن کلارک جیسے ماہر کا کہنا ہے کہ دونوں گروپ مختلف سیاسی مقاصد رکھنے کے باوجود بہت سے مشترک مفادات بھی رکھتے ہیں، جیسا کہ مغربی اقدار سے مختلف ایک اسلامی نظام کا قیام۔

کولن کلارک نے کہا کہ آگے چل کر اپنے ایک دشمن کو ختم کرنے کیلئے اپنے دوسرے دشمن پر انحصار کرنا کوئی پائیدار حکمت عملی نہیں ہوگی۔ کولن کہتے ہیں کہ داعش، افغانستان میں طالبان کی طرح علاقے کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ انھوں نے کہا کہ داعش افغانستان میں اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھے گا جس سے جنگ سے تباہ حال ملک میں تشدد میں اضافہ ہو گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں