ٹرمپ انتظامیہ کی جوہری تجربہ کرنے پر مشاورت

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے چین اور روس کو اپنے لیے بڑا خطرہ محسوس کرتے ہوئے جوہری تجربہ کرنے سے متعلق تبادلہ خیال کیا ہے۔ فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق واشنگٹن پوسٹ نے اپنے دعوے کے حق میں ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدے دار اور 2 سابق عہدے داروں کا حوالہ دیا۔ رپورٹ میں سینئر حکام کا حوالہ دے کر کہا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے 15 مئی کو ہونے والے ایک اجلاس میں جوہری تجربے سے متعلق گفتگو کی۔ واضح رہے کہ امریکی عہدے داروں نے دعویٰ کیا تھا کہ روس اور چین اپنے کم پیداوار والے جوہری ٹیسٹ کررہے ہیں، جس کے بعد ماسکو اور بیجنگ نے ان دعوؤں کی تردید کی تھی، تاہم امریکا نے اپنے دعوؤں کے حق میں ثبوت پیش نہیں کیے تھے۔ امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدے دار نے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے ’تیزی سے جوہری تجربہ‘ کرنے کی صلاحیت ایک کارآمد حربہ ہوسکتا ہے کیوں کہ امریکا جوہری ہتھیاروں سے متعلق روس اور چین کے ساتھ سہ فریقی معاہدہ چاہتا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ملاقات کسی سمجھوتے کے ساتھ ختم نہیں ہوئی اور ذرائع اس بات پر منقسم نظر آئے کہ بات چیت جاری رکھی جائے یا نہیں۔ آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیرل کم بال نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ یہ غیر معمولی جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کے لیے شروعاتی بندوق ہوگی۔ امریکا کے رویے سے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ کے ساتھ جاری بات چیت میں خلل پیدا ہوگا جس کے بعد وہ جوہری تجربے پر تاخیر نہیں کریں گے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں