آسٹریلیا: چین کیلیے جاسوسی کا الزام ، رکن اسمبلی کے دفتر پر چھاپا

 

سڈنی (انٹرنیشنل ڈیسک) آسٹریلیا کی اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی کے رکن اسمبلی پر چین کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں ان کے دفتر پر نیشنل سیکورٹی ایجنسی نے چھاپا مارا، جب کہ ان کی رکنیت بھی معطل کردی گئی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق آسٹریلیا کی پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسی نے نیو ساؤتھ ویلز سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان شوکت موسلمین کے دفتر پر چھاپا مارا۔ چھاپا مار کارروائی رکن اسمبلی پر جاسوسی کے الزام کی تحقیقات کے لیے کی گئی، تاہم پولیس کا کہنا تھا کہ یہ پہلے سے جاری تحقیقات کا حصہ ہے۔ پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسی کی کارروائی سے متعلق زیادہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم لیبر پارٹی کی رہنما جوڈی مک نے کہا کہ جاسوسی کا الزام انتہائی تشویش ناک ہے، تحقیقات مکمل ہونی چاہیے اور تب تک مذکورہ رکن اسمبلی ہمارے ساتھ نہیں بیٹھیں گے۔ اس حوالے سے آسٹریلیا کے وزیراعظم اسکاٹ موریسن کا کہنا تھا کہ رکن اسمبلی پر کسی دوسرے ملک کے لیے جاسوسی کے الزام کی تحقیقات کچھ عرصے سے جاری ہیں، لیکن اس معاملے پر مزید تفصیلات نہیں بتا سکتا۔ حکومت ملکی معاملات میں کسی قسم کی بیرونی مداخلت برداشت نہیں کرے گی۔ ایسا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ آسٹریلوی رکن پارلیمان شوکت موسلمین کے خلاف چین کے لیے جاسوسی کرنے کی تحقیقات کئی ماہ سے جاری ہے، تاہم اب تک رکن اسمبلی پر کسی قسم کا الزام ثابت نہیں کیا جا سکا ہے۔ یاد رہے کہ چین نے حال ہی میں آسٹریلیا پر پابندیاں بھی عائد کی ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں