پی سی بی نے کلبوں کے لیے ماڈل آئین اور کلب کے الحاق کے قواعد جاری کردیے

 

لاہور(جسارت نیوز)پاکستان کرکٹ بورڈ کے بورڈ آف گورنرز نے کرکٹ کلبوں کے لیے ماڈل آئین اور کلب کے الحاق اور آپریشنل قواعد کی منظوری دی۔ یہ ماڈل آئین پی سی بی کے آئین برائے 2019 اور ماڈل دستور برائے کرکٹ اور سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز سے مکمل موافقت رکھتا ہے۔یہ ازسر نو تشکیل کردہ ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر میں نچلی اور اوپر کی سطح تک کے لیے باقاعدہ فریم ورک کو حتمی شکل دینے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔کرکٹ کلبوں کے لیے ماڈل آئین کے چند نمایاں نکات مندرجہ ذیل ہیں۔ مکمل جانچ پڑتال کے بعد ہی ان کرکٹ کلبوں کا سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز کے ساتھ الحاق تسلیم کیا جائے گا۔آرٹیکل 4 کے تحت اپنے دائرہ اختیار میں کرکٹ کا فروغ اور اس کی ترقی،کلبوں کے ٹورنامنٹس اورکرکٹ میچوں کے لیے کلب کی نمائندگی کے لیے مردوں اور/یا خواتین ٹیموں کی منظم انداز میں تربیت اور دیکھ بھال کرنا،کرکٹ کی سرگرمیوں میں ربط لانے،بشمول کوچنگ، ٹریننگ اور کرکٹ کے ایونٹس اور ٹورنامنٹ کے اہتمام اور اسکولوں کے لیے ٹورنامنٹس کے انعقاد میں بھی معاونت کی کوشش کرنے اور جہاں ضرورت ہو اس طرح کے معاملات میں سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز کی مدد کرنا،فنڈز، عطیات اور اسبسکر پشنزپیدا کرنے اور ان کا استعمال اس انداز میں کرنا کہ مقاصد کے حصول میں فائدہ مند ثابت ہوسکے،اسٹیڈیم ، کھیل کے میدانوں اور دیگراثاثوں کوحاصل کرنا، لیز پر دینا اور تعمیر کرنا،وقتاََ فوقتاََ بورڈ اور/یا آئی سی سی کی جانب سے بنائے گئے اراکین/عہدیداران/آفیشلز،میچ آفیشلز اور کھلاڑیوں سے متعلق کوڈ آف کنڈکٹ،اینٹی کرپشن کوڈ، دیگر کوڈز، پالیسیوں اورقواعد و ضوابط کی تعلیم دینا اور اس پر عملدرآمد کرانا،اپنے کلب سے رجسٹراراکین، میچ آفیشلز اور کھلاڑیوں کے مابین کرکٹ امور میں بھی کسی بھی طرح کی بدعنوانی کے خاتمے کو یقین بنانا اور کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا مشتبہ بدعنوانی کی فوری اطلاع سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز کو دینا،سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز، کرکٹ ایسوسی ایشنز، پی سی بی یا دیگر کسی بھی ذریعہ سے انعامی رقم،گرانٹ یا چندہ وغیرہ کسی بھی صورت میں موصول ہونے والے فنڈز کووصولی کے 10 روز کے اندر اندر متعلقہ کھلاڑیوں، ٹیم آفیشلز اورکیس کے مطابق کسی دوسرے شخص کو دینا،اپنی کارکردگی اور افعال پر مشتمل رپورٹ ہر سال یکم اگست تک سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز کو جمع کرانا، اس میں سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز کی جانب سے وقتاََ فوقتا فراہم کردہ دستاویزات اور سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز یا پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے نشاندہی کیے جانے پر کسی بھی قسم کی خلاف ورزی یا کوتاہی کو دور کرناشامل ہے، آرٹیکل 5.1 اراکین کے ساتھ معاملات طے کرنے سے متعلق ہے، جسے مندرجہ ذیل تین اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔حق رائے دہی رکھنے والی رکنیت: وہ شخص جواس مقامی علاقے،شہر یا قصبے کا رہائشی ہوں جہاں یہ کلب واقع ہے،جو یا تو کلب کے بانی اراکین میں شامل ہو یا پھرحق رائے دہی رکھنے والے دیگر اراکین کی جانب سے ممبرشپ فیس سے مشروط اس کی منظوری دی گئی ہو۔ ہوسکتا ہے کہ ووٹنگ ممبر، کلب کا پلیئنگ رکن نہ ہو۔پلیئنگ رکنیت جس کے پاس حق رائے دہی نہ ہو: ایسا رکن جو کلب کی کسی بھی ٹیم میں سلیکشن کے لیے دستیاب ہو مگر اسے ووٹ کرنے کا حق نہ ہو۔ نان ووٹنگ پلئنگ ممبرشپ عارضی ہوگی اور یہ کسی بھی ٹیم میں انتخاب اور دستیابی کی شرط کو پورا کرنے سے مشروط ہوگی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں