بھارت ،پولیس کی حراست میں روزنہ 5 ہلاکتیں

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) پولیس تشدد کے خلاف آواز بلند کرنے والی تنظیم نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت میں گزشتہ برس پولیس حراست کے دوران 1731 لوگوں ہلاک ہوئے۔ اعداد شمار کے مطابق شرح اموات کے لحاظ سے پولیس تحویل میں ہر روز 5 افراد ہلاک ہوئے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق یہ تشویش ناک رپورٹ ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب جنوبی ریاست تمل ناڈو میں مبینہ پولیس تشدد کے نتیجے میں ایک شخص اور اس کے بیٹے کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ یونائٹیڈ این جی او کمپین اگینسٹ ٹارچر (یواین سی اے ٹی) نامی رضاکار تنظیم نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پولیس تحویل کے دوران تشدد سے ہلاک ہونے والے لوگوں میں بیشتر غریب، پسماندہ، دلت، قبائلی اور مسلمان تھے۔ رپورٹ کے مطابق 1731 افراد میں 1606 کی عدالتی تحویل کے دوران اور 125 لوگوں کی پولیس حراست میں موت ہوئی۔ 2018ء میں حراست کے دوران 1966افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ ان میں عدالتی تحویل میں 1819افراد اور پولیس کی حراست میں 147 افراد کی موت ہوگئی تھی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ حراست میں ہونے والی اموات کی اصل تعداداس سے کہیں زیادہ ہوگی اور تشدد کی حقیقی صورت حال اس سے کہیں زیادہ شدید ہوگی کیوں کہ بیشتر واقعات کا اندراج ہی نہیں ہوتا اور پولیس ان اموات کورفع دفع کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ تنظیم کے ڈائریکٹر پریتوش چکما نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا پولیس کی تحویل میں جن 125لوگوں کی موت ہوئی ہے ان میں سے 93 افراد یعنی 74.4 فیصد کی موت حراست کے دوران اذیت دینے کی وجہ سے ہوئی۔24 افراد یعنی 19.2 فیصد کی مشتبہ حالت میں موت ہوگئی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں