غرب اردن کے الحاق کا منصوبہ ،یورپ میں اسرائیل مخالف مظاہرے

پیرس ؍ برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) فرانس اور دیگر یورپی ممالک میں فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کے الحاق کے صہیونی منصوبے کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق فرانس کے شہروں پیرس، لیون، اسٹراسبرگ، سینٹ ایٹین، مونٹ پیلیراور مارسیل میں ریلیاں نکالی گئیں اور مظاہرین نے اسرائیلی اقدام کو مسترد کردیا۔ مظاہرین نے فلسطینی پرچم لہرائے اور بینر اٹھارکھے تھے، جن پرآزاد فلسطین، اسرائیل کا بائیکاٹ اورالحاق نامنظورجیسے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو مذموم منصوبے سے پیچھے ہٹنے کے لیے مجبور کرے اور پابندیاں عائد کرے۔ادھر بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں دریائے اردن کے مغربی کنارے میں غیرقانونی یہودی بستیوں اور وادی اردن کے الحاق کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ سیکڑوں مظاہرین امریکی سفارت خانے کے قریب ٹرون اسکوائر میں جمع ہوئے اور اسرائیل مخالف نعرے لگائے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کی جانب سے فلسطین میں انسانی حقوق کے خصوصی ایلچی مائیکل لنک نے کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی ریاست کی خود مختاری کے قیام کے اعلان نسل پرستی کی ایک نئی شکل ہے۔ انہوںنے کہا کہ یہ فیصلہ صدی میں یہ اپنی نوعیت کا عجیب اور ناقابل فہم اقدام ہے۔ لنک کا کہنا تھا کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی خود مختاری کے قیام کے اعلان سے حقیقی فلسطینی ریاست کے تصورکے خاتمے کا آغاز ہوگیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غرب اردن کے اسرائیل سے الحاق سے فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورت حال مزید ابتر ہوجائے گی اور لاکھوں فلسطینیوں کی روز مرہ زندگی بری طرح متاثر ہوگی۔ اس کے نتیجے میں غرب اردن میں 30فیصد علاقوں پر اسرائیل کا براہ راست قبضہ ہوگا، جو بظاہر چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں پرمشتمل یہودی کالونیوں پر ہوگا، لیکن درحقیقت یہ اقدام پورے مغربی کنارے پر اسرائیلی ریاست کے غاصبانہ قبضے کی راہ ہموار کرے گا۔ادھر اسرائیل کی سابق وزیرخارجہ زیپی لیونی نے کہا ہے کہ حکومت کا غرب اردن کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کا اعلان تاریخی غلطی ہوگا۔ انٹرویو میں مسز لیونی کا کہنا تھا کہ غرب اردن کے 30فیصد علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے سے قیام امن کے حصول کی کوششیں بری طرح متاثر ہوں گی اور اسرائیلی مفادات کو شدید نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل اور امن کے اصول پر یقین رکھتی ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں