ارباب غلام رحیم دور میں بنا یا گیا تھر ڈیم منصوبہ التوا کا شکار

 

شادی لارج( رپورٹ: خالد نواز) تھر ڈیم کا منصوبہ التوا کا شکار‘ سابق وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کے دور میں منصوبے کی منظوری دی گئی‘ منصوبے سے چار اضلاع تھرپارکر‘ بدین‘ میرپورخاص اور عمرکوٹ کی بنجر اراضی کو سیراب ہونا تھا۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کے دور حکومت میں بارش کا پانی محفوظ کرنے کیلیے سمندر سے پہلے زیرو پوائنٹ پر قدیم ڈھوروپران کے مقام پر ڈیم کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا‘ اس ڈیم کی تعمیر سے تھرپارکر‘ بدین‘ عمرکوٹ اور میرپورخاص کے اضلاع کی غیرآباد بنجر زمینیں آباد ہوتی جس کے نتیجے میں ہزاروں لوگوں کو روزگار بھی میسر آتا، واضح رہے کہ قدیم ڈھورو پران کے مقام پر لاکھوں کیوسک بارش کا پانی سمندر میں گر کر ضایع ہوجاتا ہے‘ اس منصوبے کی فزیبلیٹی رپورٹ بھی تیار ہوئی‘ سروے کے بعد ڈھورو پران کے اطراف سیکڑوں ایکٹر اراضی بھی خالی کرائی گئی تھی جبکہ یہاں موجود جنگل کو بھاری مشینری کے ذریعے صاف کردیا گیا تھا۔ اس ڈیم کی تعمیر کا مقصد نا صرف تھرپارکر کے ریگستان
کوخوبصورت سرسبز شاداب بنانا تھا بلکہ اس منصوبے سے بدین‘ عمرکوٹ اور میرپورخاص کی بنجر اراضی کو بھی آباد کرنا۔ تھا منصوبے کی فزیبلٹی رپورٹ کے مطابق زیروپوائنٹ پر سمندر کے نزدک ( شکور ڈھنڈ پر بند بنا کر لاکھوں کیوسک فٹ میٹھا پانی ذخیرہ کیا جائے گا، جو علاقے کی زرعی ودیگر ضروریات کیلیے پورے سال کے لیے کافی ہوگا‘اس سے لاکھوں افراد کو پینے کا میٹھا پانی بھی میسر آتا۔ تاہم ارباب حکومت کے ختم ہوتے ہی تھرپارکر کے ریگسانوں کا سرسبز بننا ایک خواب ہی بن کر رہ گیا‘ ڈھورو پران کی ہزاروں ایکڑ اراضی پر دوبارہ قبضہ ہو چکا ہے اور کناروں پر دوبارہ گھنا جنگل بن گیا ہے تھرپارکر بدین کی عوام نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس منصوبے کو دوبارہ شروع کرکے اس علاقے کو تباہ ہونے سے بچایا جائے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں