جانوروں کی خوراک ’’عارضی روزگار‘‘ کا ذریعہ بن گئی

کراچی: کورونا وائرس کے سبب خراب معاشی صورتحال کے باعث ہزاروں افراد بے روزگار ہوئے ہیں جب کہ کئی افرادنے اپنے اہل خانہ کی کفالت کے لیے عید الاضحی پر ’’عارضی روزگار‘‘ کا انتظام کرلیا۔

مختلف علاقوں میں جگہ جگہ جانوروں کی خوراک میں استعمال ہونے والی اشیا کی فروخت کے اسٹال قائم  کیے گئے ہیں جہاں 24 گھنٹے جانوروں کی خوراک دستیاب ہے، اس کام سے منسلک محمد نعیم نے بتایا کہ عیدالاضحی پر قربانی کے جانوروں کی خدمت بڑوں کی نسبت بچے زیادہ شوق سے کرتے ہیں اور وہی ان کی خوراک اور پانی کا خیال رکھتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ شہر کے تمام علاقوں، اہم شاہراہوں اور مقامات پر جانوروں کو خوراک کی فراہمی کی اشیاکے اسٹال قائم ہوگئے ہیں، یہ کاروبار عارضی ہوتا ہے، جو عیدالاضحیٰ سے 15 روز قبل شروع کیا جاتا ہے اور عید کے تیسرے دن تک جاری رہتا ہے، اس کاروبار کے سبب سیکڑوں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار حاصل ہوا ہے، جانوروں کی خوراک کیلیے تھل، چوکر، دانا بھوسا، مکئی، جو، گیہوں، ہرا چارا، سوکھا چارا، کٹا ہوا چارا (گڈی)، چنے کا چھلکا، بھوسی اور دیگر اشیا استعمال ہوتی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ چارے کی ہول سیل منڈی لی مارکیٹ پر قائم ہے، اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی ہول سیل قیمتوں پر جانوروں کی خوراک کی اشیا فروخت ہو رہی ہیں اور ہول سیل سے خریدنے کے بعد عام اسٹالوں پر یہ اشیا 10 سے 15 فیصد منافع رکھ کر فروخت کی جاتی ہیں۔،ماضی کی نسبت جانوروں کی خوراک میں استعمال ہونے والی اشیاکی قیمتوں میں اس عیدالاضحیٰ سے قبل بھی25سے30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ کھل 60روپے فی کلو، چوکر 55روپے فی کلو، دانا65روپے فی کلو، بھوسی 30 سے 35 روپے فی کلو، بھوسا 30 سے 35 روپے فی کلو، جو 50 سے 55 روپے فی کلو، گیہوں 60روپے فی کلو، ہرا چارا 20 سے 25 روپے فی کلو، ہر گھاس 15 روپے فی کلو، سوکھی گھاس 25 سے 30 روپے فی کلو، چنے کا چھلکا 60روپے فی کلو، بڑے جانور کا مکس چارا 85 روپے فی کلو اور چھوٹے جانور کا سوکھا مکس چارا 70روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے،زیادہ تر لوگ مکس چارا خرید کر لے کر جاتے ہیں، جو بکروں، دنبوں اور دیگر چھوٹے جانوروں کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ بڑے جانور کے لیے ہرا چارا زیادہ استعمال ہے۔

خاندانی قصابوں کی عید کے پہلے روز بکنگ مکمل

خاندانی قصابوں نے عید الاضحی کے پہلے روز کے لیے ایڈوانس بکنگ بند کردی ہے، قصابوں نے گزشتہ عید کی نسبت رواں عید الاضحی پر اپنے معاوضے میں 30 سے 50 فیصد اضافہ کردیاہے۔

قصاب کامران قریشی نے بتایا کہ عید الاضحی پر بڑے اور چھوٹے جانوروں کی قربانی کا معاوضہ جانوروں کے وزن کو دیکھ کر طے کیا جاتا ہے اور ہر علاقے میں معاوضہ الگ الگ ہوتا ہے۔عید کے پہلے روز بڑے جانور کی قربانی کا معاوضہ 10ہزار روپے سے 15ہزار روپے تک ہوتا ہے جبکہ پوش علاقوں میں 15سے 20ہزار روپے تک معاوضہ لیا جاتا ہے۔چھوٹے جانور کی قربانی کا معاوضہ 3 ہزار سے 6 ہزار روپے تک جبکہ پوش علاقوں میں 5 سے 10 ہزار روپے تک معاوضہ لیا جاتا ہے۔

دوسرے دن بڑے جانور کی قربانی کا معاوضہ 7ہزار سے 10ہزار اور چھوٹے جانور کے 3سے 5ہزار اور تیسرے دن بڑے جانور کے 5سے 8ہزار اور چھوٹے جانور کے 2سے 3ہزار روپے لیے جاتے ہیں،صوبے کے مختلف اضلاع کے علاوہ دیگر ہنرمند افراد بھی عید الاضحی پر تین دن کی دہاڑی لگاتے ہیں اور یہ موسمی قصاب ٹولیوں کی شکل میں مختلف علاقوں میں گشت کرتے ہیں اور اصل قصاب کی نسبت 50فیصد کم معاوضے پر جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔ان میں سے بعض افراد اناڑی ہوتے ہیں جو کھال اور گوشت کو خراب کردیتے ہیں۔

سیکڑوں بے روزگار نوجوانوں نے عارضی باڑے بھی بنالیے

جانوروں کی حفاظت کیلیے سیکڑوں بے روزگار نوجوانوں نے عارضی باڑے قائم کر لیے ہیں۔ یہ عارضی باڑے مختلف علاقوں میں سڑکوں، گلیوں، فلیٹوں اور کھلے مقامات پر قائم کیے گئے ہیں۔ ان باڑوں کو شامیانے لگا کر قائم کیے گئے ہیں۔ یہ باڑے عید سے 10 روز ہی قائم ہو گئے تھے اور یہ باڑے عید کے تیسرے روز تک قائم رہیں گے۔ ان باڑوں میں قربانی کے بڑے چھوٹے جانور باندھے جاتے ہیں۔ جہاں 24 گھنٹے کے لیے بڑے جانور کا کرایہ 300 روپے  اور چھوٹے جانور کا کرایہ 200 روپے تک لیا جاتا ہے۔ ان باڑوں میں جانوروں کی دیکھ بھال اور حفاظت کی جاتی ہے۔ ان باڑوں میں نوجوان شفٹوں میں چوکیداری کرتے ہیں۔

جانوروں کی خوراک کا بندوبست جانور کے مالکان خود کرتے ہیں یا کئی افراد اپنے جانوروں کو خوراک کی فراہمی کیلیے الگ سے معاوضہ ادا کرتے ہیں۔ باڑا مالکان تین وقت بڑے جانور کی خوراک کا معاوضہ 500 روپے اور چھوٹے جانور کے 200 روپے ادا کرتے ہیں۔ ان باڑوں کے ساتھ چارے والوں نے اپنے اسٹال قائم کیے ہوتے ہیں۔

کارگو ٹرانسپورٹ سے منسلک افراد کا کاروبار بھی چمک اٹھا

کارگو ٹرانسپورٹ سے منسلک افراد کا کاروبار بھی چمک اٹھا ہے۔ گاڑیوں میں ڈرائیور کے علاوہ 2 افراد بطور مددگار کام کرتے ہیں، وہ جانوروں کو اتارتے اور چڑھاتے ہیں، یہ ٹرانسپورٹ والے ہر علاقے کے حساب سے معاوضہ طلب کرتے ہیں، کم از کم علاقے کا معاوضہ 1000 روپے اور دور علاقوں کا معاوضہ 3 سے 4 ہزار روپے طلب کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ مختلف مقامات پر بکرے اور دنبوں کی فروخت کے بعد خریدار سی این جی رکشوں میں ان کو اپنے گھروں تک لے جاتے ہیں اور رکشے والے  300 سے 700 روپے تک طلب کرتے ہیں۔

چٹائی 400روپے سے 1000 روپے تک فروخت

مختلف سائز کی چٹائی 400روپے سے 1000 روپے تک فروخت ہورہی ہے، مختلف اقسام اور سائز کی ٹوکریاں 150 سے 500 روپے تک فروخت کی جارہی ہیں، زیادہ تر ٹوکریاں اور چٹائیاں اجتماعی قربانی کرنے والے افراد اور ادارے خریدتے ہیں۔

 

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں