دباؤ پر ٹرمپ انتخابات ملتوی کرنے کے بیان سے مکر گئے

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں برس نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کو ملتوی کرنے کی اپنی تجویز پر سخت تنقید اور دباؤ کے بعد یو ٹرن لے لیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق اپنا موقف تبدیل کرنے کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ انتخابات میں تاخیر نہیں چاہتے لیکن ممکنہ مسائل کے تناظر میں انتہائی فکر مند ہیں۔ گزشتہ روز ڈیموکریٹس کے علاوہ خود ٹرمپ ہی کی حکمراں جماعت ری پبلکن کے ارکان کانگریس کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آنے کے بعد وہ اپنے بیان سے مکر گئے اور مختلف انداز اپنا کر بات بدلنے کی کوشش کی۔ ڈیموکریٹک رہنما ڈین کِلڈی نے ٹوئٹر پر کہا کہ صدر ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں اور اقتدار میں رہنے کے لیے انتخاب ملتوی کرنے کی تجویز دے رہے ہیں، تاہم وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر امریکی شخص کو ڈونلڈ ٹرمپ کی لاقانونیت اور آئین کو مکمل نظر انداز کرنے کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ سینیٹر اور ڈیموکریٹک رہنما ٹام اُڈل کا کہنا تھا ٹرمپ کسی بھی طرح انتخابات میں تاخیر نہیں کرا سکتے، ہمیں ان کی کورونا سے نمٹنے میں نااہلی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دینی چاہیے۔ انہیں صدارتی انتخابات کی تاریخ تبدیل کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے۔ یہ اختیار صرف کانگریس کو حاصل ہے اور ایسے کسی بھی اقدام کے لیے کانگریس سے منظوری لازمی ہے۔ دریں اثنا سابق صدر بارک اوباما نے ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے امریکی ڈاک کے نظام پر بے بنیاد الزامات کسی طور قبول نہیں، یہ نظام عوام کا حق ہے۔
واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ انتخابات میں التوا سے متعلق بات کی وضاحت دے رہے ہیں‘ بارک اوباما متنازع بیان دینے پر صدر کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں